کیا مجھے شرعی طور پر دوسری شادی کیلئے بیوی ے اجازت کی ضرورت ہے ؟ یا میں اس کو بتائے بنا بھی شادی کر سکتا ہوں؟
جوشخص دو بیویوں کے حقوق ادا کرنے اور نان و نفقہ پر قادر ہو، تو اس کو پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر بھی دوسری شادی کرنا جائزہے، مگر چونکہ قانوناً پہلی بیوی سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے ، اس لئے بعد کی مشکلات سے بچنے کیلئے پہلی بیوی سے اجازت لےکر شادی کی جائے تو بہتر ہے۔
كما في التفسير المظهرى : فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث و ربا ع فان خفتم الا تعدلوا بين الازواج المتعددة فواحدة الى فانكحوا واحدة و ذروا الجمع (الى قوله) تعليق الاختصار على الواحد او التسرى بخوف الجور يدل انه عند القدرة على اداء حقوق الزوجات والعدل بينهن الافضل الاكثار في النكاح اهـ (ج2 ص5)