نکاح

خطبہ کے بغیر کیے ہوئےنکاح کا حکم

فتوی نمبر :
39907
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

خطبہ کے بغیر کیے ہوئےنکاح کا حکم

میری عمر 43 سال ہےدوسری شادی میں نے دو گواہوں کی موجودگی میں،خاتون(اس کی عمر30سال،مطلقہ) کی رضا مندی سے نکاح کی نیت سے ان الفاظ میں ایجاب وقبول کیا،آخر میں دعا کرلی،خطبہ نہیں پڑھا، کیا نکاح ہوگیا؟ میں آپ نام(ABC) بنت (XYZ) کو بعوض 21000 روپے حقِ مہر اپنے نکاح میں لیتا ہوں،کیا آپ کو قبول ہے؟ لڑکی نے بولا: قبول ہے،یہ الفاظ دو بار ایک گواہ نے ہم دونوں سے پوچھے تو ہم نے قبول کیا اور تیسری مرتبہ میں نے خود مذکورہ الفاظ کہے،دونوں گواہوں کے سامنے،کیا یہ نکاح صحیح ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے اگر واقعۃً دو گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کے اولیاء کی اجازت ورضا مندی سے مذکور لڑکی کے ساتھ ایجاب وقبول کیا ہو ، تو اس میں اگرچہ خطبہ نہ پڑھا گیا ہو،تب بھی شرعاً یہ نکاح منعقد ہوچکا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبی داؤد: (عن رجل من بنی سلیم) قال فی الخلاصة ھو عباد بن شیبان(خطبت) من الخطبة بالکسر(أمامة بنت عبد المطلب) أی عمته صلی اللہ علیه وسلم (فانکحی من غیر أن یتشھد أی یخطب وفیه دلیل علیٰ جواز النکاح بغیر الخطبة اھ (1/ 296)۔
وفی الدر المختار: ويندب إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد وشهود عدول، والاستدانة له والنظر إليها قبله الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله: ويندب إعلانه) أي إظهاره والضمير راجع إلى النكاح بمعنى العقد لحديث الترمذي «أعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد واضربوا عليه بالدفوف» فتح اھ (3/ 8)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39907کی تصدیق کریں
0     869
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات