السلام علیکم! میر انام بنت غضنفر ہے، پرتگال سے مجھے یہ پوچھنا تھا کہ ہمارے گھر پر جو کام والی آنٹی تھی، وہ عباسی تھی تو ان کو میری امی صدقہ، زکوۃ دیتی تھی، اور وہ خود منہ سے مانگ کر لیتی تھی اور جہاں بھی کام کرتی تھی، اُن سے بھی لیتی تھی، جب ان کی بیٹیوں کی شادی ہوئی تو تب بھی انہیں بہت کیا تو اس کا کیا گناہ ہے لینے اور دینے والے پر اور وہ تو ابھی سب کو بولتی ہے۔ مجھے دو، براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں۔
سائلہ کی امی نے اگر لاعلمی کی وجہ سے مذکور عباسی خاتون کو زکوۃ دی ہو تو ان کی زکوۃ ادا ہو چکی ہے، تاہم آئندہ احتیاط کرنی چاہیے، جبکہ جو خاتون عباسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، ان کا زکوۃ لینا درست نہیں، وہ اپنے اس عمل کی وجہ سے گناہ گار ہو رہی ہیں، انہیں اپنے اس عمل سے توبہ کرنا اور جتنے لوگوں سے زکوۃ لی ہیں، انہیں واپس کرنا لازم ہے۔
ففي البحر الرائق: (قوله ولو دفع بتحر فبان أنه غني أو هاشمي أو كافر أو أبوه أو ابنه صح ولو عبده أو مكاتبه لا) لحديث البخاري «لك ما نويت يا زيد ولك ما أخذت يا معن» حين دفعها زيد إلى ولده معن اھ (2/ 266)
وفي الدر المختار: (دفع بتحر) لمن يظنه مصرفا (فبان أنه عبده أو مكاتبه أو حربي ولو مستأمنا أعادها) لما مر (وإن بان غناه أو كونه ذميا أو أنه أبوه أو ابنه أو امرأته أو هاشمي لا) يعيد لأنه أتى بما في وسعه، حتى لو دفع بلا تحر لم يجز إن أخطأ. (2/ 352)
وفي حاشية ابن عابدين: في القهستاني عن الزاهدي: ولا يسترد منه لو ظهر أنه عبد أو حربي وفي الهاشمي روايتان ولا يسترد في الولد والغني وهل يطيب له؟ فيه خلاف، وإذا لم يطب قيل يتصدق وقيل يرد على المعطي. اهـ (2/ 353)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0