سعودی عرب رمضان میں تراویح آٹھ رکعت پڑھتے ہیں اور وتر
دو الگ اور ایک رکعت الگ پڑھتے ہیں اور اس آخری رکعت میں الحمدسورۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعاکرتے ہیں اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا آٹھ رکعت تراویح پڑھنا کافی ہے یا ہم مسلک حنفی والے 12 رکعت پھر لازمی پڑھیں ؟ دوسرا کیا انکے طریقہ پر دو رکعت الگ اور ایک رکعت الگ،کیا اس طریقہ پر وتر پڑھنا کافی ہے؟ یا ہم وتر تین رکعت ملاکر الگ پڑھیں۔
حنفی مسلک والوں کو چاہئے کہ وہ امام کے ساتھ آٹھ رکعت تراویح پڑھنے کے بعد امام کے ساتھ وتر نماز پڑھنے میں شریک نہ ہوں، بلکہ اس کے بعد انفرادی یا جماعت کے ساتھ بقیہ 12 رکعت تراویح پڑھیں، اور پھر تین رکعت وترحنفی مسلک کے مطابق ادا کریں۔
كما في الدر المختار: وهو ثلاث ركعات بتسليمة كالمغرب حتى لو نسي القعود لا يعود ولو عاد ينبغي الفساد كما سيجيء (و) لكنه يقرأ في كل ركعة منه فاتحة الكتاب وسورة احتياطا (الى قوله) (وصح الاقتداء فيه ففي غيره أولى إن لم يتحقق منه ما يفسدها في الأصح كما بسطه في البحر (بشافعي) مثلا (لم يفصله بسلام) لا إن فصله على الأصح) الخ (ج 2 ص 6-8).
وفيه ايضاً: التراويح سنة مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين للرجال والنساء) إجماعاً (الى قوله) والجماعة فيها سنة على الكفاية في الأصح فلو تركها أهل مسجد أثموا إلا لو ترك بعضهم. وكل ما شرع بجماعة فالمسجد فيه أفضل قاله الحلبي (وهي عشرون ركعة) حكمته مساواة المكمل للمكمل (بعشر تسليمات)الخ ( ج 2، ص 43-45)-
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0