(۱) ہمارے گھر کے سب لوگوں کو بہت زیادہ نظر لگتی ہے دعائیں وغیرہ بھی پڑھتے ہیں، منزل بھی روزانہ پابندی سے پڑھتے ہیں، پر اکثر ایسا مسئلہ ہو جاتا ہے۔
(۲) :میں کسی صاحب کو پسند کرتی ہوں، اگرچہ جب انہوں نے شادی سے انکا ر کیا، تب سے میرا اس سے کوئی رابطہ نہیں، ایک بار اس سے ملنے بھی گئی تھی ،وہ بھی انہوں نے کہا تھا کہ مل لو، اس بات کو دو سال ہوئے ہیں پر ابھی بھی ڈر لگتا ہے کہ آخرت میں مجھے نہ جانے کیا سزا ہو ،اور توبہ بھی کرتی ہوں پر یہی خوف رہتا ہے کہ میں غلط ہوں ۔
دوسرا مسئلہ میری دوست کا ہے کہ اس کی کسی صاحب سے کالج میں دوستی ہوئی، اور بات اس حد تک گئی کہ لڑکے نے شادی کے لئے کہا اس نے جب ہاں کری ،تو اس کو کچھ کتابیں دیں اور کہا ان کو پڑھ کر میرے دین میں آجاؤ، اور اپنے والدین کو کچھ نہ بتانا ،وہ صاحب قادیانی نکلے، اس نے چھوڑ تو دیا ،پر میرے خیال سے میں بہت لوگوں کو جانتی ہوں جوکہ قادیانیوں (احمدی) کے بارے میں کوئی معلومات نہیں رکھتے ، اور وہ انہیں مسلمان سمجھتے ہیں، اس طرح نہ جانے کتنی لڑکیاں ہونگی، جن کو یہ قادیانی بے وقوف بنا کر شادیاں کر لیتے ہونگے ۔
میری تقریباً ساری دعائیں ماشاء اللہ سے قبول ہوتی ہیں، پر میری جب یہ دعا قبول نہیں ہورہی کہ میری شادی ان صاحب سے ہو جائے ،تو عجیب عجیب شیطانی خیال آتے ہیں ،اور اکثر نماز اور قرآن پڑھتے ہوئے یہ خیال آتے ہیں کہ تم مسلمان ہو بھی کہ نہیں جس سے نماز اور قرآن میں دل نہیں لگتا۔
(۱): نظرِ بد سے حفاظت اور علاج کی غرض سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ساری دعائیں منقول ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے ۔ اعوذ بکلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عین لامة . اس دعا کو پڑھ کر اپنے اور اپنے گھر والوں پر دم کرنا چاہیئے ۔انشاء اللہ تعالیٰ مفید رہے گا ۔
۲ - ۳ :قادیانی چونکہ خبیث الاعتقاد ، کافر اور زندیق ہیں، اس لئے ان کے ساتھ نکاح یا دیگر معاملات وغیرہ کرنا مسلمان کے لئے جائز نہیں،اگر لاعلمی میں کسی نے قادیانی سے نکاح کے نام پر عقد کر بھی لیا تو شرعاً یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا ،اس لئے سائلہ اور اس کی دوست پر لازم ہے کہ وہ اپنے متعلقہ دونوں شخصوں سے مکمل طور پر قطعِ تعلق کریں اور اب تک ایک غیر محرم کے ساتھ بے تکلفی اور بات کرنے کی وجہ سے جو گناہ سرزد ہوا ہے ،اس پر بصدقِ دل تو بہ واستغفار بھی کریں، اور آئندہ کے لئے ایسی ناجائز باتوں سے مکمل اجتناب بھی کریں۔
جبکہ تمام دعاؤں کا فوری قبول ہونا ضروری نہیں، بلکہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی حکمت کیوجہ سے مناسب موقع پر قبول ہوتی ہیں یا اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ اس سے بہتر کوئی چیز عطا فرما دیتے ہیں یا قیامت والے دن ضرور عطا فرماویں گے۔ اس لئے سائلہ کو دعا کی قبولیت میں تاخیر سے دلبرداشتہ ہونے اور نماز وغیرہ عبادات میں دل نہ لگنے سے اپنے ایمان میں شک کرنے سے احتراز چاہیئے۔
و في سنن الترمذي: عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعوذ الحسن والحسين يقول: «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة، ومن كل عين لامة» (4/ 396)۔