اگر گھر والے زبر دستی نکاح کروائیں اور لڑکا، لڑکی کی رضا مندی نہ ہو، تو کیا وہ نکاح جائز ہو گا؟ اور اگر بعد میں وہ دونوں سمجھوتا سمجھ کر اسے نبھائیں تو کیا یہ جائز ہو گا؟
بالغ لڑکے اور لڑکی کی رضامندی کے بغیر ان کے گھر والوں کیلئے جبراً ان کا نکاح کرانا درست نہیں، البتہ گھر والوں کی طرف سے نکاح کرائے جانے کے بعد اگر لڑکا، لڑکی اس پر رضامندی ظاہر کریں چاہے با دلِ نخواستہ کیوں نہ ہو ، تو ایسی صورت میں ان کا نکاح منعقد ہو جاتا ہے ، اور ان کیلئے میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا جائز ہو جاتا ہے۔
كما في الدر المختار: (ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة. (وفي رد المحتار: تحت) (قوله ولا تجبر البالغة) ولا الحر البالغ۔اھ (3/58)