آلسلام علیکم میرا سوال یہ ہے جمعہ والے دن گھر پر ظہر کی نماز ادا کی جائے گی لیکن جمعہ کی نماز ختم ھو نے کے بعد طہرکی نماز پڑھیں گے یا ظہر کے ٹائم پڑھ سکتے ہیں. شکریہ
سائل نے یہ نہیں لکھا ہے کہ جمعہ کے دن جمعہ کی نماز مسجد میں پڑھنے کی بجائے گھر پر ظہرکیوں پڑھ رہا ہے ، تاہم اگر کسی معقول شرعی عذر کی وجہ سے گھر پر ظہر کی نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو چاہیئے کہ محلہ کی مسجد میں جب نماز ہوجائے تو اس کے بعد اپنی ظہر پڑھ لیا کرے ۔
فی الھندیۃ: ویستحب للمریض والمسافر واھل السجن تاخیراظھر الی فراغ الامام من الجمعۃ وان لم یو خریکرہ فی الصحیح اھ (۱۴۸ص/اج)
وفی الدر المختار : (ھی فرض) عین (یکفرجاحدھا) لثبوتھا بالدلیل القطعی کما حققہ الکمال وھی فرض مستقل آکد من الظہر ۔ اھ (۱۳۷/۲)
وفی الشامیۃ : (قولہ بالدلیل القطعی)وھو قولہ تعالی۔ (یا أیھا الذین آمنوا إذا نودی للصلاۃ من یوم الجمعۃ فا سعوا) [الجمعۃ:۹] الآ یۃ۔ وبالسنۃ والإجماع (قولہ کما حققہ الکمال) وقال بعد ذلک وإنا أکثرنا فیہ نوعامن الإ کثارلما نسمع عن بعض الجہلۃ أنہم ینسبون إلی مذہب الحنفیۃ عدم افتراضہا، ومنشأ غلطہم قول القدوری ومن صلی الظہر یوم الجمعۃ فی منزلہ ولا عذر لہ کرہ وجازت صلاتہ ۔۔۔۔۔ وصحت الظہر لما سیأتی (قولہ آکد من الظہر) أی لأنہ ورد فیہا من التہدید ما لم یرد فی الظہر، من ذلک قولہ ﷺ: ’’من ترک الجمعۃ ثلاث مرات من غیر ضرورۃ طبع اللہ علی قلبہ‘‘ رواہ احمد والحاکم وصححہ، فیعاقب علی ترکہا أشد من الظہر ویثاب علیہا أکثر ولأن لہا شروطا لیست للظہر تأمل۔ اھـ (ج۲، ص۱۳۷) واللہ اعلم!