کیا ہم جمعہ سے پہلی والی چار رکعات سنتوں کو جمعہ کے بعد پڑھ سکتے ہیں؟ اگر پڑھ سکتے ہیں، تو جمعہ کے بعد والی دو اور چار رکعات سنتوں سے پہلے پڑھیں؟ یا بعد میں؟
جمعہ سے پہلی والی سنتوں کو بلاعذر بعد میں پڑھنا کراہت سے خالی نہیں جس سے احتراز چاہیئے، البتہ کسی عذر کی وجہ سے جمعہ سے پہلی والی سنتیں نہ پڑھ سکیں تو جمعہ کے بعد والی چھ سنتوں کے بعد ان کو پڑھنا چاہیے۔
کما فی الردّ المحتار: (بخلاف سنّۃ الظّہر) وکذا الجمعۃ (فإنہ) إن خاف فوت رکعۃ (یترکہا) ویقتدی ثم (یاتی بہا) علی أنہا سنۃ (فی وقتہ) أی الظّہر (قبل شفعۃ) عند محمد وبہ یفتی (کتاب الصّلٰوۃ، باب إداراک الفریضۃ، ج: ۲ ص: ۵۸)
وکما فی الشّامیۃ: تحت قولہ وبہ یفتی أقول وعلیہ المتون لکن رجح فی الفتح تقدیم الرکعتین: قال فی الإمداد: وفی فتاویٰ العتابی أنہ المختار، وفی مبسوط شیخ الإسلام أنہ الأصح لحدیث عائشۃ: أنہ علیہ الصلٰوۃ والسلام کان إذا فاتتہ الأربع قبل الظّہر یصلیہن بعد الرّکعتین: وہو قول أبی حنیفۃؒ وکذا فی جامع قاضیخان (کتاب الصلوۃ، باب ادراک الفریضۃ، ج:۲ ص: ۵۹)
وکما فی البحر الرائق: تحت (قولہ وقضی التی قبل الظھر فی وقتہ قبل شفعہ) بیان لشئین أحدہما القضاء والثانی محلّہ (إلی قولہ) ورجح فی فتح القدیر تقدیم الرّکعتین لأنّ الأربع فاتت عن الموضع المسنون فلا یفوت الرکعتین عن موضعہا قصدًا بلا ضرورۃ وحکم الأربع قبل الجمعۃ کالاربع قبل الظہر کما لا یخفی (کتاب الصلٰوۃ: باب ادراک الفریضۃ ج:۲ ص: ۷۵)