کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس بارے میں کہ:
(۱) ہمارے ادارے میں مسجد بہت چھوٹی ہے جس میں ادارے کے لوگ بھی پورے نہیں آتے ہیں اور نہ مسجد کے باہر یا قریب میں کوئی ایسی جگہ ہے کہ جہاں شامیانہ وغیرہ لگاکر نماز ادا کی جائے اور کمپنی کی سیکیورٹی کی وجہ سے باہر کے لوگوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ آج کل حالات خراب ہیں اور مسجدکے ساتھ کوئی جگہ بھی نہیں اور کمپنی کے قریب کوئی مسجد بھی نہیں ہے جس میں ہم نماز پڑھ سکیں، اور جو قریب میں ہے وہ بریلویوں کی ہے، اس لئے ان تمام مشکلات کے باوجود آیا کہ ہم یہاں پر جمعہ کی نماز شروع کرسکتے ہیں؟
(۲) سابق صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں انہوں نے بنکوں کے اندر ایک نیا سلسلہ شروع کیا تھا جو نفع و نقصان کھاتہ (یعنی پرافٹ اینڈ لوس) سیونگ اکاؤنٹ کے نام سے ہے، اس میں نقصان کی صورت میں ہم سے رقم کاٹتے ہیں اور نفع کی صورت میں وہ منافع دیتے ہیں، آیا اس میں اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور کمپنی کسی شہر یا شہر کے متصل یعنی اس کے "فناء" میں واقع ہے تو ایسی صورت میں اس کمپنی میں نمازِ جمعہ قائم کرنا شرعاً جائز اور درست ہے مگر نمازِ جمعہ کے قیام کا اصل مقصد مسلمانوں کا ایک جگہ جمع ہونا اور اسلام کی شان و شوکت ظاہر کرنا ہے اس لئے اگر قریب کی کسی بڑی جامع مسجد جانے کی کوئی صورت بن سکتی ہو تو وہاں جانا بہتر اور افضل ہے۔
اور اگر ایسا ممکن نہ ہو اور سوائے اپنی کمپنی میں قیامِ جمعہ کے نمازِ جمعہ کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہو تو اس صورت میں اس کمپنی میں ہی قیامِ جمعہ کی ترتیب بنالینا جائز ہے، پھر اگر کمپنی کے انتظام میں خلل پڑے یا کسی دوسرے نقصان وغیرہ کی بناء پر اگر باہر سے آنے والوں کے داخلہ کی اجازت نہ بھی ہو تب بھی اس میں کچھ حرج نہیں۔
البتہ اگر باہر سے آنے والوں کیلئے چیک پوسٹ قائم کرکے ان کو بھی اجازت دے دی جائے تو ایسا کرنا بہر حال بہتر ہے۔
(۲) بینک کے P.L.S اکاؤنٹ میں رقم رکھنا اور اس پر ملنے والی پرافٹ کا وصول کرنا قطعاً جائز نہیں اس لئے کہ یہ سود ہے، لہٰذا اس سے احتراز واجب ہے البتہ اگر حفاظت کی غرض سے رقم بینک میں ہی رکھوانی ہو تو کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھوائی جائے تو اس کی اجازت ہے۔
فی الدر المختار: والاذن العام من الامام، وہو یحصل بفتح أبواب الجامع للواردین کافی فلا یضر غلق باب الفلعۃ لان الاذن العام ……… لاہلہ وغلقہ لمنع العدو لا المصلی۔ اھـ(ج۲، ص۱۵۲)۔
فی الشامیۃ: قلت ویؤیدہ قول الکافی واجلس البوابین۔ الخ(ج۲، ص۱۵۲)۔