۱۔ نمازِ جمعہ میں خطبہ کے دوران وقفہ ہوتا ہے اس دوران دعا مانگنی چاہیے یا نہیں؟ اگر مانگنی چاہیے تو ہاتھ اُٹھا کر یا دل میں؟
۲۔ خطبہ کے دوران درودِ پاک پڑھا جاتا ہے، جواب میں دورد پڑھنا چاہیے یا نہیں؟
۳۔ خطبہ کے دوسرے حصہ میں امام صاحب جو دعا مانگتے ہیں، جواب میں آمین کہنا چاہیے یا نہیں؟
۴۔ خطبہ سے پہلے جواذان دی جاتی ہے اس کا جواب دینا چاہیے یا نہیں؟
۵۔ ان چاروں صورتوں میں آواز کتنی ہو؟ دل میں؟ ہونٹ ہلے، یا بآواز بلند؟
مذکورہ تمام امور اگر دل ہی دل میں ہوں تو اس کی گنجائش ہے اور ایسا ہی کرنا چاہیے، جبکہ زبان سے ان کی ادائیگی کرنا مکروہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففی حاشیة البحر لإبن عابدین: قال فی النهر: اقول ینبغی الا تجب باللسان اتفاقا علی قول الإمام فی الاذان بین یدی الخطیب اھ (۱/ ۲۵۹)
وفی حاشية ابن عابدين: فيسن الدعاء بقلبه لا بلسانه لأنه مأمور بالسكوت اهـ(2/ 164)
وفی الدر المختار: والصواب أنه يصلي على النبي - صلى الله عليه وسلم - عند سماع اسمه في نفسه اھ (2/ 159)