السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حضرت میں مدرستہ المدینہ فیضان اعلی حضرت۔ فیضان تاج الشریعہ نمازگاہ میں مدرس و خطیب و امام بھی ہوں ۔اس مدرسے میں پڑھائی کے علاوہ نماز پنج گانہ بھی مع جمعہ و عیدین بھی ادا کی جاتی ہے کچھ لوگوں کا اعتراض ہے کہ مدرسے میں جمعہ قائم نہیں کر سکتے قریب میں اہلسنت والجماعت کی مسجد پہلے سے ہی قائم ہے لیکن ابادی گھنی ہے مسائل کا حل بتائیں
خاک پائے تاج الشریعہ محمد صدام آرزو نعیمی آسنسول
مذکور مدرسہ اگر کسی شہر یا قصبہ کی حدود میں واقع ہو تو اس میں نمازِ جمعہ و عیدین کا پڑھانا جائز اور درست ہے،مگر یہاں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہیں ملےگا، اس لیے اگر قریب میں کوئی مسجد ہو اور وہاں جا کر نماز ِجمعہ و عیدین پڑھنا ممکن ہو تو ایسا ہی کرنا چاہیے، تاکہ جماعت کے ثواب کے ساتھ ساتھ مسجد کا ثواب بھی حاصل ہو۔
ففی الدر المختار: وأما (المتخذ لصلاة جنازة أو عيد) فهو (مسجد في حق جواز الاقتداء) اھ(1/ 657)
وفی الفتاوى الهندية: وأما المتخذ لصلاة العيد فالمختار أنه مسجد في حق جواز الاقتداء اھ(2/ 456)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه اھ(2/ 138)
وفیه أیضاً: (قوله ومدرسة) ما يبنى لسكنى طلبة العلم ويجعل لها مدرس ومكان للدرس، لكن إذا كان فيها مسجد فحكمه كغيره من المساجد. ففي وقف القنية: المساجد التي في المدارس مساجد لأنهم لا يمنعون الناس من الصلاة فيها، وإذا أغلقت يكون فيها جماعة من أهلها. اهـ وفي الخانية: دار فيها مسجد لا يمنعون الناس من الصلاة فيه، إن كانت الدار لو أغلقت كان له جماعة ممن فيها فهو مسجد جماعة تثبت له أحكام المسجد من حرمة البيع والدخول وإلا فلا وإن كانوا لا يمعنون الناس من الصلاة فيه اهـ(1/ 657) واللہ أعلم بالصواب!