کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ:
(۱) ہمارے گاؤں کی کل آبادی تقریباً دس ہزار ہے جس کے اندر مسجدیں پہلے کی آباد ہیں اور ان میں نمازِ جمعہ ادا ہوتی ہے اور ہمارے گاؤں میں ضرورت مند انسان کی ہر چیز موجود ہے اور ہم نے اپنے محلے میں ایک نئی مسجد بنائی ہے جس میں پنج وقتہ نمازیں ہوتی ہیں نمازیوں کی تعداد تیس، چالیس ہے اور روڈ کے عین کنارے پر واقع ہے اگر جمعہ پڑـھیں تو تعداد ستر افراد کی ہوجائے گی تو اس صورت میں نمازِ جمعہ جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
(۲) میت کو دفن کرنے سے قبل ا س کے لئے دعائے مغفرت کرنا کیسا ہے جبکہ میت چارپائی پر ہے منکر نکیر تو قبر میں رکھنے کے بعد آتے ہیں اس صورت میں ہاتھ اُٹھاکر دعا کرنا کیسا ہے؟
(۳) صدقہ خیرات برادری کا ہر عام و خاص آدمی کھاسکتا ہے کہ صرف مسکین ہی؟ امیر آدمی بھی کھاسکتا ہے یا نہیں؟
(۴) جس کی نمازیں قضا عمری ہوں تو کیا اس کے عزیز اقارب ، برادری کے لوگوں کو کھانا کھلائیں تو کچھ فرق پڑتا ہے؟ ہمارے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ روزے قضا ہوں تو فدیہ دینا چاہئے اور نماز قضا ہو تو مرنے کے بعد لوگوں کو خواہ امیر ہو یا غریب کھانا کھلاسکتے ہیں؟
(۱) اصل یہ ہے کہ گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں اور شہر وقصبات میں صحیح ہے قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو، اور ایسا بازار موجود ہو جس میں دکانیں چالیس، پچاس متصل ہوں، اور بازار روزانہ لگتا ہو، اور اس بازار میں ضروریاتِ روز مرہ کی ملتی ہوں مثلاً جوتے، کپڑے، عطر اور سامانِ خورد و نوش مثلاً آٹا، گھی، دودھ وغیرہ کی دکانوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کے علاج و معالجہ کیلئے وہاں دوا خانہ اور میڈیکل سٹور بھی موجود ہوں نیز ڈاکخانہ اور پولیس تھانہ یا چوکی بھی قائم ہو اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں۔
پس جس بستی میں مذکورہ بالا صفات پائی جائیں گی وہاں جمعہ وعیدین قائم کرنا شرعاً جائز اور درست ہوگا اور جہاں یہ صفات و شرائط مفقود ہوں وہاں ان نمازوں کا قائم کرنا بھی جائز نہیں، لہٰذا سوال میں مذکور مقام میں یہ شرائط موجود نہیں اس لئے وہاں کے رہنے والے لوگوں پر نمازِ جمعہ وعیدین بھی واجب نہیں، بلکہ انہیں چاہئے کہ ظہر کی نماز ہی ادا کیا کریں۔
ہاں اگر مذکور مقام کسی شہر کے اس طور پر متصل ہو کہ شہر والوں کی بعض ضروریات اس گاؤں کے ساتھ متعلق ہوں مثلاً شہر والوں کا قبرستان وہاں ہو یا اسکول وکالج وغیرہ ہوں تو اس صورت میں یہ مضافات شہر میں داخل ہے اس لئے وہاں جمعہ قائم کرنا جائز اور درست ہوگا۔
(۲) میت کیلئے مغفرت اور بخشش طلب کرنا جائز اور درست ہے اور دعا کے وقت ہاتھ اُٹھانا مطلقاً دعا کے آداب میں سے ہے لہٰذا ہاتھ اُٹھاکر دعا کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں بلکہ جائز ہے، لیکن جنازہ کے متصل بعد اس سے احتراز کرنا چاہئے کیونکہ نمازِ جنازہ خود دعا ہے البتہ دفنانے کے بعد دعائے مغفرت مناسب ہے، مگر یاد رہے کہ یہ سب جواز اس وقت ہے جبکہ اس کو فرض و واجب کا درجہ نہ دیا جاتا ہو ، یا اس عمل میں شرکت نہ کرنے والے کو بنظرِ حقارت نہ دیکھا جاتا ہو ورنہ یہ عمل بدعت ہوجائے گا جس سے احتراز لازم ہے۔
(۳) صدقہ خیرات سے سائل کی کیا مراد ہے آیا میت کے بعد اس کے ورثاء جو دعوت کرتے ہیں یا عام طور پرثواب یا فضیلت حاصل کرنے کیلئے جو نفلی صدقات کئے جاتے ہیں یا صدقاتِ واجبہ (یعنی نذر وغیرہ کے پورا ہونے پر کسی کو کھلانا پلانا وغیرہ) مراد ہے، اپنے مقصود کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرلیا جائے انشاء اﷲ جواب دے دیا جائے گا۔
(۴) اگر میت کے ذمہ کچھ روزے اور نمازیں قضاء ہوں اور اس نے ان کا فدیہ دینے کی وصیت بھی کی ہو اور اس کے ترکہ میں (اگر اس پر قرض ہو تو اسے اداکرنے کے بعد) اتنی وسعت ہو کہ ایک تہائی ترکے سے ان قضاء نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جاسکتا ہو تو ادا کرنا ضروری ہے، اور اﷲ تعالیٰ کی ذاتِ عالی سے امید بھی کی جاسکتی ہے کہ اس فدیہ کو قضاء نمازوں اور روزوں کے بدلہ میں قبول فرماکر میت کے ذمہ کو فارغ فرمادیں، اور اگر میت نے وصیت نہ کی ہو بلکہ اہلِ میت اپنی طرف سے سب کی رضا مندی سے میت کے روزوں اور نمازوں کا حساب لگاکر بالغ ورثاء فدیہ دے دیں تو یہ بھی جائز اور درست ہے مگر واجب نہیں، اور اس کی قبولیت کی بھی امید کی جاسکتی ہے۔
وفی الدر: ویشترط لصحتہا المصر وتقع فرضًا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیہا أسواق۔ (ج۱، ص۱۱۱)۔
ویستحب حثہ من قِبَل رأسہ … وجلوس ساعۃ بعد دفنہ لدعاء وقراء ۃ۔ (ہندیۃ: ج۱، ص۱۶۳)۔
فی الدر: ولو مات وعلیہ صلوات فائتۃ واوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من برکالفطرۃ وکذا حکم الوتر والصوم۔ اھـ (ج۲، ص۷۲)۔