السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ جمعہ کی نماز میں خطبہ کے دوران پہلے خطبہ میں لوگ ہاتھ باندھ کر بیٹھتے ہیں اور دوسرے خطبہ میں تشہد کی حالت میں بیٹھا کرتے ہیں تو کیا یہ صحیح ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ سلام کے بعد ہاتھ ملانے کے بعد ہاتھ سینے پر رکھتے ہیں تو کیا یہ صحیح ہے یا ہاتھ ملانے کے بعد ہاتھ چھوڑ دینے چاہیے؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر نماز کے دوران ساتھ والے کا وضو ٹوٹ جائے تو فوراً نماز سے نکل جاتا ہے تو اس خالی جگہ کو کیسے پُر کیا جائے، ساتھ والا نما زپڑھتے ہوئے خود صف سے مل جائے یا پیچھے والا نماز پڑھتے ہوئے اگلی صف میں اس خالی جگہ کو پُر کرے یا اس جگہ کو خالی رہنے دیا جائے؟
۱۔۲ مصافحہ کے بعد سینے پر ہاتھ رکھنے اور خطبہ کے دوران مذکور کیفیت اختیار کرنے کی شرعاً کوئی اصل نہیں، البتہ دونوں خطبوں کے دوران باادب التحیات کی حالت میں بیٹھنا آداب میں سے ہے۔
۳۔ ایسی صورت میں برابر کا نمازی یا پچھلی صف سے کوئی آگے بڑھ کر اس خالی جگہ کو پُر کرے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن چلنے کی کیفیت ایسی نہ ہو جو عملِ کثیر میں داخل ہو جائے، بلکہ آہستہ آہستہ اور قدم کھسکا کر آگے آئے۔
ففی الدر المختار: وفي القنية: السنة في المصافحة بكلتا يديه وتمامه فيما علقته على الملتقى اھ(6/ 381)
وفی الفتاوى الهندية: إذا شهد الرجل عند الخطبة إن شاء جلس محتبيا أو متربعا أو كما تيسر؛ لأنه ليس بصلاة عملا وحقيقة،كذا في المضمرات، ويستحب أن يقعد فيها كما يقعد في الصلاة،كذا في معراج الدراية اھ(1/ 148)
ففی الدر المختار: ولو وجد فرجة في الأول لا الثاني له خرق الثاني لتقصيرهم، وفي الحديث «من سد فرجة غفر له» اھ(1/ 570)
وفی حاشية ابن عابدين: بقي ما إذا رأى الفرجة بعد ما أحرم هل يمشي إليها؟ لم أره صريحا وظاهر الإطلاق نعم، ويفيده مسألة من جذب غيره من الصف كما قدمناه فإنه ينبغي له أن يجيبه لتنتفي الكراهة عن الجاذب، فمشيه لنفي الكراهة عن نفسه أولى فتأمل. ثم رأيت في مفسدات الصلاة من الحلية عن الذخيرة إن كان في صف الثاني فرأى فرجة في الأول فمشى إليها لم تفسد صلاته اھ (1/ 570)