السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گاؤں کی آبادی ۵۰ گھروں پر مشتمل ہے اور مسجد میں نمازیوں کی عمومی تعداد ۲۵ کے لگ بھگ ہوتی ہے، جبکہ جمعہ کے روز یہ تعداد بڑھ کر ۵۰ سے ۶۰ کے لگ بھگ ہو جاتی ہے، دکانیں وغیرہ اس گاؤں میں نہیں ہیں، ضروریاتِ زندگی کی اشیاء خریدنے کے لیے تقریباً ۳ کلو میٹر دور جانا پڑتا ہے، جبکہ اس گاؤں میں گذشتہ ۱۵ سال سے جمعہ کی نماز بلا تعطل ادا کی جارہی ہے، پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس گاؤں میں نماز جمعہ کو جاری رکھا جا سکتا ہےیا نہیں؟ ایک مولانا صاحب نے جو تبلیغی جماعت کے ساتھ آئے تھے انہوں نے نماز جمعہ نہ پڑھنے پر اصرار کیا تھا، نماز جمعہ روکنے کے ردِّ عمل میں انتشار کے ڈر سے یہ مسئلہ آپ سے پوچھنا ہے کہ اگر بند کرنا ضروری ہے تو کوئی بہتر صورت بھی تجویز فرمائیں۔
سائل کے سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اصل سوال "گاؤ ں میں جمعہ" کے متعلق ہے، تو واضح ہو کہ اصل یہ ہےکہ گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں ،جبکہ شہر اور قصبات میں صحیح ہے ،اور قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہےکہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو،اوروہاں ایسا بازار موجود ہو جس میں دوکانیں چالیس، پچاس متّصل ہوں،اور بازار روزانہ لگتا ہو، اور اس بازار میں ضروریاتِ روزمرّہ کی تمام اشیاء ملتی ہوں،مثلا جوتے کی دوکان،کپڑے کی ،عطر کی، درزی کی، غلہ کی، دودھ گھی کی ،اور وہاں ڈاکٹر حکیم وغیرہ بھی ہوں،اسی طرح وہاں ڈاکخانہ بھی ہو اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو ،اس کے ساتھ ساتھ اس میں مختلف محلّے مختلف ناموں سے موسوم ہوں، پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں، وہاں جمعہ صحیح ہوگا ورنہ صحیح نہ ہوگا، بلکہ اس صورت میں ظہر کے فرض کا ترک اور نوافل کی جماعت کا اہتمام لازم آئےگا جو بلازشبہ ممنوع اور گناہ ہے، لہٰذا سائل نے مذکور گاؤں کی جو تفصیل سوال میں ذکر کی ہے اس کے مطابق چونکہ مذکور گاؤں قریہ کبیرہ اور قصبہ کے حکم داخل نہیں، اس لیے عندالاحناف یہاں جمعہ اداکرنا درست نہیں،اور اگر جمعہ نہ قائم کرنے میں انتشار پھیلنے کا خطرہ ہو توو وہاں کے سمجھدار لوگوں کو چاہیے کے کسی عالم یا مفتی صاحب کو بلائیں اور اس کے ذریعے لو گوں سمجھائیں کہ جس طرح دیگر عبادات (حج ،زکوۃ وغیرہ)کیلیے کچھ نہ کچھ شرائط ہوتی ہیں، اسی طرح جمعہ کی ادائیگی کیلیے بھی شرائط ہیں،ان شرائط کے ناپیدہونے پر جمعہ کی ادائیگی درست نہیں ہوتی ،چنانچہ صحیح مسئلہ سمجھنے کے بعد امید ہے کہ لوگوں میں انتشار نہ پھیلے۔
ففی الدرالمختار: (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء الأول: المصر(الی قوله) وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود اھ ۔
وفی رد المحتار: عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اهـ ۔(2/137)واللہ اعلم بالصواب۔