کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ہم نے اللہ کے فضل اور خصوصی مدد سے اپنے محلہ ’’حاجی فضل، گاؤں سلطان آباد ، سیکٹر نمبر ۱ منگھو پیر کراچی‘‘ میں ایک مسجد تعمیر کی، جس میں بیک وقت چھ سو کے لگ بھگ نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں، مگر قریب اسی محلہ میں ایک اور مسجد و مدرسہ بھی پہلے سے موجود ہے، جہاں پہلے سے جمعہ کا قیام ہوتا ہے، مگر علاقہ کی آبادی زیادہ ہونے سے اہلِ محلہ و متولیانِ مسجد اس دوسری مسجد میں بھی نمازِ جمعہ کا قیام چاہتے ہیں ،کیا شرعاً اس کی گنجائش ہے؟ جبکہ بعض حضرات اس پر معترض ہیں کہ یہاں جمعہ کا قیام درست نہیں ، قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں معلوم کرنا ہے کہ اس مسجد میں ہم جمعہ قائم کر سکتے ہیں یا نہیں؟
صورت ِمسئولہ میں مذکور دوسری مسجد میں نمازِ جمعہ کا قیام بلاشبہ جائز اور درست ہے، بلاوجہ اس پر معترض ہو کر مسلمانوں میں افتراق و انتشار کی کیفیت پیدا کرنے سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر دونوں مساجد زیادہ قریب ہوں اور اہلِ محلہ کسی ایک میں سما سکتے ہوں اور باہمی باتفاق سے کسی ایک مسجد میں جمعہ پڑھنے کا اہتمام کر لیا جائے تو یہ روحِ شریعت کے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ بہتر اور افضل ہے۔
ففی الدر المختار: (و تؤدى في مصر واحد بمواضع كثيرة) مطلقا اھ(2/ 144)۔
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله مطلقا) أي سواء كان المصر كبيرا أو لا و سواء فصل بين جانبيه نهر كبير كبغداد أو لا و سواء قطع الجسر أو بقي متصلا و سواء كان التعدد في مسجدين أو أكثر هكذا يفاد من الفتح اھ(2/ 144)۔