میرا سوال ہے ایک وقت میں دو بہنوں سے نکاح کے حوالے سے، میں شادی شدہ ہوں، لیکن میری اہلیہ کی ایک بہن ہے جن کو طلاق ہو گئی ہے اور اس کا ایک بچہ بھی ہے، وہ بہت پریشان ہے ، میں اس کو بھی نکاح میں لےکر رکھنا چاہتا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ شریعت نے منع فرمایا ہے، لیکن کوئی تو راستہ ہو وفات کے علاوہ، جبکہ بیوی بھی راضی ہو، براہ مہربانی مجھے کوئی بھی راستہ یا فتویٰ دیں کہ مین اس کو بھی نکاح میں لے لوں ، ان کی فیملی میں بہت پریشانی ہے۔
واضح ہو کہ دو بہنوں کو بیک وقت اپنے نکاح میں رکھنا قرآن و سنت کی صریح نصوص کی رو سے شرعاً نا جائز و حرام اور گناہ کبیرہ ہے ، جس سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرچہ سائل کی بیوی اپنی بہن کو شوہر کے نکاح میں لانے پر راضی ہو، تب بھی نکاح میں بیوی کے ہوتے ہوئے سائل کیلئے اپنی سالی سے نکاح کر ناشر عاً نا جائز و حرام ہے، جس سے بہر صورت بچنا سائل پر لازم ہے، البتہ سائل اگر ان کے ساتھ ہمدردی کرنا چاہتا ہے تو کسی بھی نیک اور شریف مسلمان سے اس کا نکاح کرادے تو اس پر اس کو ثواب ملے گا۔
کما قال اللہ تعالیٰ: {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا}۔الایة [النساء: 23]