نکاح

ایجاب و قبول کے بغیر نکاح نامہ پر دستخط کرنے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
41438
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ایجاب و قبول کے بغیر نکاح نامہ پر دستخط کرنے سے نکاح کا حکم

میں نے کورٹ میرج کیا ہے،نہ کوئی گواہ تھا اور نہ ہی کوئی مولانا،صرف دستخط ہوئے ہیں،کیا اسلامی طور پر نکاح ہوا ہے کہ نہیں ؟ اور اب طلاق ہورہی ہے،عدت کرنی چاہیئے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور نکاح اگر باقاعدہ گواہوں کی موجودگی اور ایجاب و قبول کے الفاظ کی ادائیگی کے بغیر ہوا ہو تو دستخط کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوا ، اس کو نکاح سمجھ کر سائلہ اور مذکور لڑکے کا میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا بھی درست نہیں تھا ،بلکہ جتنا عرصہ وہ ساتھ رہے ہیں ، حرامکاری میں مبتلاء رہے ہیں،اس لئے دونوں پر بصدقِ دل توبہ کرنا اور ایک دوسرے سے فوراً علیحدہ ہونا لازم ہے،چنانچہ جب نکاح ہی نہیں ہوا تو اب طلاق اور عدت کا بھی سوال نہیں بنتا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیة: ووقت حضور الشهود وقت الإيجاب والقبول لا وقت الإجازة حتى لو كان العقد موقوفا على الإجازة ولم يحضرا عند العقد لم يجز هكذا في البدائع (الیٰ قوله) (ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد وكذا إذا كان أحدهما غائبا لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانة وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين وهذا قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - ولو أرسل إليها رسولا أو كتب إليها بذلك كتابا فقبلت بحضرة شاهدين سمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب؛ جاز لاتحاد المجلس من حيث المعنى وإن لم يسمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب لا يجوز عندهما اھ (1/269)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 41438کی تصدیق کریں
0     819
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات