مختار کا ایک بیٹا پہلی بیوی سے ہے، بیوی بچے کو چھوڑ کر بھاگ گئی، مختار نے دوسری شادی جس عورت سے کی اس کی پہلے خاوند سے ایک بیٹی ہے۔ کیا اس لڑکے اورلڑکی کا نکاح ہو سکتا ہے؟
مختار کے بیٹے کیلئے اپنی مذکور سوتیلی ماں کے پہلے خاوند کی بیٹی سے نکاح کر ناشر عاً جائز اور درست ہے۔
كمافی الدر المختار: (وزوجة أصله وفرعه مطلقا) ولو بعيدا دخل بها أو لا. وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال (و) حرم (الكل) مما مر تحريمه نسبا، ومصاهرة (رضاعا) إلا ما استثني في بابه۔اھ (3/31)
وفي الفقه الإسلامي وأدلته: {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء، إلا ما قد سلف، إنه كان فاحشة ومقتاً وساء سبيلاً} [النساء:22/ 4] والمراد بالنكاح في (نكح): العقد، فهو سبب للتحريم سواء دخل بها أم لم يدخل. والأب يطلق لغة على الجد وإن علا. والمحرم بهذه الآية هو زوجة الأب فقط، أما بنتها أو أمها فلا تحرم على الابن، فيجوز أن يتزوج الرجل امرأة، ويتزوج ابنه بنتها أو أمها۔اھ (9/ 6627)