مفتی صاحب میں نے اور ایک لڑکی نے جس کا فرضی نام Fہے ، ہم نے بنا کسی گواہ کے نکاح کیا تھا آپس میں تین بار قبول کر کے ، اور میں نے اسے حق مہر بھی ادا کر دیا تھا موقع کے اوپر ہی، پاکستان کے قانون میں یہ بات موجود ہے کہ ایسا نکاح ہو جاتا ہے اور اس کی حیثیت بھی شرعی ہوتی ہے، مجھے آپ سے یہ سوال کرنا ہے کہ ہمارے اس نکاح کی حیثیت بتادیں مہربانی، اگر ہم نے دوبارہ ساری فیملی کے سامنے نکاح کرنا ہو تو کیا یہی والا بتادیں یا پھر دوبارہ سے کریں۔
واضح ہو کہ شرعی شہادت (دو مسلمان عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی) کے بغیر نکاح شر عاً منعقد نہیں ہوتا، اس لئے صورت مسئولہ میں سائل اور مذکور لڑکی کا نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ باضابطہ نکاح کر یں۔
کما في الهداية: ولا ينعقد نكاح المسلمين الا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين (إلى قوله) قال رضي الله عنه أعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة والسلام "لا نكاح إلا بشهود اھ (1/ 185)