میرا بھائی تقریباً چالیس سال کا ہے، اور اس کی تشخیص مستقل طور پر دماغی توازن خراب ہونے کے طور پر ہوچکی ہے، اور وہ رحمان نفسیاتی ہسپتال حیدر آباد میں چودہ مہینے سے داخل ہے، وہ یہ سمجھتا ہے نعوذ بااللہ وہ بڑی بات کہی کہ وہ مسلمانوں کی مسجد میں گیا اور نہیں قادیانی کہا وغیرہ وغیرہ ، اور گھر میں بھی اس کا رویہ درست نہیں ہے، بےجاشک کرنا ،بہت غصہ ہونا، وقتا ً فوقتاً چلّانا، اور گھنٹوں غیر ضروری باتیں کرنا اور مناسب دوائیاں نہ لینا، جب گھر میں تھا خاموشی سے بلوچستان اور کیماڑی چلاگیا اور وہاں رینجر نے اس کو پکڑ لیا اور لاک اپ میں رکھنے کےبعد گھر رابطہ کر کے اس کو چھوڑ دیا، میرا سوال یہ ہے کہ جب یہ کماتا نہیں ہے، اور ذیابیطس اور انسولین پر ہے، اس کا دماغی توازن درست نہیں، تو کیا میں اس کو زکوٰۃ دے سکتا ہوں، اس کے ہسپتال کے بلز کے لیے یا جب وہ چاہے، اصل میں اس نے میرپور خاص میں چند سال پہلے ایک پلاٹ بھی لیا تھا، جس کی قیمت تقریباً تین لاکھ تک ہوگی، تو کیا موجودہ دماغی توازن کے مسئلہ کے پیش نظر میں اس کو زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟
سائل کے بھائی کے پاس رہائش مکان کے علاوہ جو پلاٹ موجود ہے، وہ چونکہ اس کی ضروریات اصلیہ سے زائد ہے، اور اس کی مالیت بھی نصاب کو پہنچتی ہے ، اس لیے سائل کا بھائی مذکور پلاٹ کی وجہ سے صاحب نصاب شمار ہوگا،لہذا سائل کے لیے ایسی صورت میں اسے زکوٰۃ کی مد میں رقم دینا درست نہ ہوگا، سائل کو چاہیے کہ زکوٰۃ کی مد کے علاوہ نفلی صدقات عطیات کی مد سے اپنے بھائی کا تعاون کرے۔
کمافی الفتاوی الھندیة: لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة الخ (1/ 189)۔
وفی فقہ الاسلامی وادلتہ: اما العقار الذی یسکنہ صاحبہ او یکون مقراً لعملہ کمحل للتجارۃ ومکان لصناعة فلا زکوٰۃ فیہ الخ (2/ 787)۔