کزن میرج اسلام میں جائز ہے اور میڈیکل سائنس کے مطابق اس سے موروثی بیمایوں کا خطرہ ڈبل ہوجاتا ہے،اس صورت میں رہنمائی فرمائیں؟ جزاک اللہ
جاننا چاہیے کہ کزن میرج اسلام میں جائز ہے،اس میں کسی طرح کی قباحت نہیں،چنانچہ خود آپ ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمۃ الزھراء کا نکاح اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کروایا ہے،لہذا علی الاطلاق یہ کہنا کہ یہ موروثی بیماریوں کا باعث ہے،غلط ہے،البتہ کہیں ایسا ہوجائے تو اس سے انکار بھی نہیں۔
کمافی تفسیر بن کثیر: واحل لکم ماوراء ذلکم ای ماعدا من ذکر من المحارم ھن لکم حلال (1/474)۔
مشکوۃ المصابیح: عن بریدۃ قال خطب ابوبکر وعمر فاطمۃ فقال رسول اللہﷺ انھا صغیرۃ ثم خطبھا علی فزوجھا منہ(1/565)۔
وفی الدر المختار: أسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرة، رضاع، جمع، ملك، شرك، إدخال أمة على حرة، فهي سبعة(3/ 28)۔