مصارف زکوۃ و صدقات

بھائی کو زکوٰۃ کی رقم دینے سے زکو ۃ اداہوجائے گی؟

فتوی نمبر :
44227
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

بھائی کو زکوٰۃ کی رقم دینے سے زکو ۃ اداہوجائے گی؟

کیا مالی مشکلات کے شکار بھائی کو جن پر بہت قرض بھی ہے ، زکوٰۃ دینا جائز ہے؟ اور اسے بتائے بغیر بھی دی جاسکتی ہےکہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے؟، دوسرےبھائی نے اپنی آمدنی میں سے تین فیصد اللہ کی راہ میں دینے کا ارادہ کیا ہے، کیا یہ رقم بھی بھائی کو دے سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بھائی اگر قرض وغیرہ کی وجہ سےزکوٰۃ کا مستحق بن چکا ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو، تو دوسروں کی بنسبت بھائی کو زکوٰۃ دینا یا نفلی صدقات کے ذریعے اس کا تعاون کرنا افضل اور بڑے اجر کا باعث ہے،اور اس میں زکوٰۃ کا بتانا بھی ضروری نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات الخ (1/ 190)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدوسیم سلیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 44227کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات