سالگرہ منانا جائز نہیں ہے مگر کیوں؟ اس کے بارے میں کوئی دلیل دے کر واضح کردیں؟
نیز آج کل بہت سے دینی گھرانے بھی سالگرہ مناتے ہیں اور اس پر ملنے والے یا دینے والے تحائف کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ سالگرہ منانا نبی کریمﷺ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلفِ صالحین رحمہ اللہ سے ثابت نہیں بلکہ یہ غیر قوموں کی ایجاد ہے، اس لئے مسلمانوں کو غیر قوموں کی اتباع کرتے ہوئے سالگرہ منانے اور اس موقع پر رائج دیگر امور کی انجام دہی سے اجتناب کرنا لازم ہے، اسی طرح سالگرہ پر جو تحفے تحائف دیے یا لیے جاتے ہیں وہ حرام تو نہیں لیکن اس میں بھی غیر قوموں کے ساتھ مشابہت ہے اس لئے اس سے بھی احتراز کرنا چاہیئے ۔
قال اللہ تعالٰی: ﴿ولا تسرفوا انّه لا یحبّ المسرفین﴾. (الانعام: ۱۴۱)-
وفی مشکٰوة المصابیح: عن ابن عمر رضی اللہ عنه قال قال رسول اللہﷺ من تشبه بقوم فهو منهم. (۲/ ۲۱۲)-
وفی مرقاة الفاتیح: (من تشبه بقوم): أی من شبه نفسه بالکفار مثلا فی اللباس وغیره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار (فهو منهم): أی فی الإثم والخیر. قال الطیبی: هذا عام فی الخلق والخلق والشعار، ولما کان الشعار أظهر فی التشبه ذکر فی هذا الباب قلت: بل الشعار هو المراد بالتشبه لا غیر، فإن الخلق الصوری لا یتصور فیه التشبه، والخلق المعونی لا یقال فیه التشبه، بل هو التخلق، هذا وقد حکی حکایة غریبة ولطیفة عجیبة، وهی أنه لما أغرق اللہ سبحانه فرعون وآله لم یغرق مسخرته الذی کان یحاکی سیدنا موسی علیه الصلٰوة والسلام فی لبسه وکلامه ومقالاته فیضحك فرعون وقومه من حرکاته وسکناته فتضرع موسی إلی ربه: یا رب! هذا کان یؤذی أکثر من بقیة آل فرعون، فقال الرب تعالٰی: ما أغرقناه: فإنه کان لابسا مثل لباسك، والحبیب لا یعذب من کان علی صورة الحبیب، فانظر من کان متشبها بأهل الحق علی قصد الباطل حصل له نجاة صوریة، وربما أدت إلی النجاة المعنویة، فکیف بمن یتشبه بأنبیائه وأولیائه عل قصد التشرف والتعظیم، وغرض المشابهة الصوریة علی وجه التکریم؟ وقد بسط انواع التشبه بالمعارف فی ترجمة عوارف المعارف اھ (۸/ ۱۵۵) -