نکاح

بیوی اسلام قبول کرلے،تو کیا وہ شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے؟

فتوی نمبر :
46206
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بیوی اسلام قبول کرلے،تو کیا وہ شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے؟

ایک عورت نے آغا خانی فرقہ چھوڑ کر اسلام قبول کیا ہے ،اپنے دو بچوں کے ساتھ ، کیا اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے، جو ابھی اسلام میں نہیں آیا؟ طلاق کا مسئلہ ہے تفصیل سےبتادیجیے، ویسے بھی کافی بار ان کا جھگڑا ہوتا رہا، زندگی میں طلاق تک نوبت آتی رہی، اور تین ماہ سے زیادہ مدت الگ رہتے رہے ، لیکن طلاق کنفرم نہیں تھی، پھر بھی ساتھ رہتے رہے، براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں، کیونکہ یہ دین کا معاملہ ہے، واپس نہ چلی جائے کسی کی باتوں میں آکر ، کیونکہ یہ لوگ بہت سپورٹ کرتے ہیں اپنی کمیونٹی کو۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں کہ مذکور عورت کے اسلام لانے سے قبل طلاق واقع ہوئی کہ نہیں، اور یہ کہ الفاظِ طلاق کیا تھے ؟ جب تک اس کی مکمل تفصیل معلوم نہیں ہو جاتی، اس سے متعلق حکمِ شرعی نہیں بتایا جاسکتا۔
تاہم جب مذکور عورت آغا خانی مذہب چھوڑ کر اسلام لا چکی ہے تو اب اس کے شوہر پر اسلام پیش کیا جائے گا، اگر وہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو دونوں کا نکاح بدستور برقرار رہے گا، اور دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، نئے نکاح کی ضرورت نہیں، لیکن اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کر دے اور میاں بیوی دونوں دارالاسلام میں ہوں، تو ایسی صورت میں قاضی ( جج) ان کے نکاح کو فسخ کرنے کا حکم جاری کر دے گا، جس کے بعد عدَّت مکمل کر کے وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفتاوى الهندية: وإذا أسلم أحد الزوجين في دار الحرب ولم يكونا من أهل الكتاب أو كانا والمرأة هي التي أسلمت فإنه يتوقف انقطاع النكاح بينهما على مضي ثلاث حيض سواء دخل بها أو لم يدخل بها كذا في الكافي فإن أسلم الآخر قبل ذلك فالنكاح باق ولو كانا مستأمنين فالبينونة إما بعرض الإسلام على الآخر أو بانقضاء ثلاث حيض كذا في العتابية اھ (1/ 338)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 46206کی تصدیق کریں
0     384
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات