محترم مفتی صاحب مجھے معلوم کرنا ہے کہ کیا دیو بند مسلک (حنفی مسلک ) سے تعلق رکھنے والی لڑکی کا ایک اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھنےوالے لڑکے سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ برائے مہر بانی راہنمائی فرمائیں۔
اہلحدیث (غیر مقلدین) کے ساتھ دیو بندی لڑکی کا نکاح کرنا از روئے شرع اگرچہ درست ہے، مگر اہلحدیث (غیر مقلدین) کا احناف کے ساتھ بہت سارے مسائل میں اختلاف ہے، جس سے آگے چل کر ازدواجی زندگی متاثر ہونے اور بچوں پر اس کا غلط اثر پڑنے کا قوی اندیشہ ہے، اس لئے مذکور لڑکی کیلئے اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھنے والے لڑکے کیساتھ نکاح کرنے کے بجائے اولیاء کی رضامندی سے مسلک حنفی سے تعلق رکھنے والے کسی اور لڑکے سے نکاح کرنا چاہیے۔
كما في الدر المختار: باب الكفاءة، من: كافأه؛ إذا ساواه. والمراد هنا مساواة مخصوصة أو كون المرأة أدنى (الكفاءة معتبرة) في ابتداء النكاح للزومه أو لصحته (من جانبه) أي الرجل لأن الشريفة تأبى أن تكون فراشا للدنيء۔اھ (3/84)
وفي الفتاوىٰ الهندية : الكفاءة معتبرة في الرجال للنساء للزوم النكاح، كذا في محيط السرخسي ولا تعتبر في جانب النساء للرجال، كذا في البدائع. فإذا تزوجت المرأة رجلا خيرا منها؛ فليس للولي أن يفرق بينهما فإن الولي لا يتعير بأن يكون تحت الرجل من لا يكافئوه، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي۔اھ (1/290)