جناب میرا نام فاروق ہے اور میرا ایک سوال ہے،حالیہ اتوار کو ایک واقعہ ہوا،جس میں میں اور مہوش نامی ایک بالغ لڑکی اور دو بالغ لڑکے موجود تھے،دو لڑکوں میں سے ایک نے مذاق میں لڑکی سے تین بار پوچھا کہ کیا تم فاروق کو دو لاکھ (200000) حق مہر کے ساتھ قبول کرتی ہو اور اس نے تین بار مذاق میں "ہاں" کہا تو لڑکے نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم مہوش کو دولاکھ(200000) حق مہر کے ساتھ تین بار قبول کرتے ہو اور میں نے تین بار "ہاں" میں جواب دیا،مذاق میں ،اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ لڑکے نے ہمارے باپ دادا کا نام نہیں لیا اور ہمارے خاندان کے افراد وہاں موجود نہیں ہیں،یہاں تک کہ ہمارے خاندان کے افراد بھی اس واقعہ کے بارے میں نہیں جانتے،تو براہِ کرم مجھے بتائیں کہ کیا ہماری شادی شریعت کے مطابق ہوئی یا نہیں؟ کیا وہ شریعت کے مطابق میری بیوی ہے؟اگر ہاں تو ہم آگے کیا کریں گے؟
مذکور نکاح اگر باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول اور مہر کے تقرر کے ساتھ کفوء میں ہوا ہو،تو ایسا نکاح اگرچہ درست منعقد ہوچکا ہے،مگر بالغ لڑکے،لڑکی کا اولیاء کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے نکاح کرنا بڑی جسارت اور بے شرمی پر مبنی عمل ہے،شریف خاندانوں میں اس طرح کا نکاح سخت معیوب سمجھا جاتاہے،اور اس طرح کا نکاح والدین اور بزرگوں کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے طلاق اور خلع پر منتج ہوجاتاہے،اس لئے مذکور لڑکے لڑکی پر لازم ہے کہ اپنے والدین اور اولیاء کو اعتماد میں لیکر اپنی نئی زندگی کا آغاز کریں،ورنہ طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کریں۔
کما فی سنن أبی داؤد: عن أبی ھریرۃ ۔رضی اللہ عنه ۔ أن رسول اللہ ﷺ قال:ثلاث جدھن جد وھزلھن جد: النکاح،والطلاق،والرجعة اھ (2/259)۔
کما فی الدر المختار: ولا يشترط العلم بمعنى الإيجاب والقبول فيما يستوي فيه الجد والهزل إذ لم يحتج لنية به يفتى الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله: ولا يشترط إلخ) اللفظ إنما يعتبر لأجل القصد فلا يشترط فيما يستوي فيه الجد والهزل بخلاف البيع ونحوه اھ(3/15)۔