کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ مَیں ایک فیکٹری میں ملازم ہوں اور میری تنخواہ تقریباً ۱۴۸۰۰ روپے ہے جس سے بمشکل گھر کا گزارہ چلتا ہے اور گھر کے کرایہ کی بھی پریشانی ہوتی ہے، اس کے علاوہ میری ملکیت میں سونا چاندی، نقدی یا مالِ تجارت وغیرہ کچھ بھی نہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ ایسی صورت میں اگر کوئی شخص میرے ساتھ گھر خریدنے کے سلسلے میں زکوٰۃ کے مال سے تعاون کرتا ہے یا زکوٰۃ کے مال سے گھر خرید کر دیتا ہے کہ میں کرایہ کے پریشانی سے بچ جاؤں، تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً بھی درست ہو تو سائل مستحقِ زکوٰۃ ہے اس کیلئے زکوٰۃ کی مد سے تعاون قبول کرنا اور کسی شخص کا اسے اس مد میں گھر خرید کر مالکانہ قبضہ کے ساتھ دینا شرعاً بھی جائز ہے۔