نکاح

نومسلمہ کا اپنے خاوند سے طلاق لیے بغیر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
47332
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نومسلمہ کا اپنے خاوند سے طلاق لیے بغیر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے کا حکم

میں نو مسلمہ ہوں اور اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہوں، مگر ہمارے درمیان میں چار سال سے کوئی تعلقات نہیں ہیں، میں کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہتی ہوں، کیا میں اپنے شوہر سے طلاق لیے بنا مسلمان سے نکاح کر سکتی ہوں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ اگر کسی اسلامی مملکت میں ہو تو اسے چاہیئے کہ عدالت میں اپنے اسلام قبول کرنے اور شوہر کے غیر مسلم ہونے کا مقدمہ دائر کرے، پھر جج شوہر کو بلا کر اس پر اسلام پیش کرے، اگر وہ اسلام قبول کرلے تو دونوں کا نکاح حسبِ سابق بدستور قائم رہے گا، تاہم اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کرے تو جج ان دونوں کے درمیان تفریق کرادے گا، لہذا تفریق کے بعد جب سائلہ کی عدت مکمل ہو جائے تو پھر سائلہ کا کسی مسلمان سے نکاح کرنا درست ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في بدائع الصنائع: وإن أسلمت المرأة لا تقع الفرقة بنفس الإسلام عندنا، ولكن يعرض الإسلام على زوجها، فإن أسلم بقيا على النكاح، وإن أبى الإسلام، فرق القاضي بينهما؛ لأنه لا يجوز أن تكون المسلمة تحت نكاح الكافر، ولهذا لم يجز نكاح الكافر المسلمة ابتداء، فكذا في البقاء عليه، وإن كانا مشركين أو مجوسيين، فأسلم أحدهما أيهما كان يعرض الإسلام على الآخر، ولا تقع الفرقة بنفس الإسلام عندنا، فإن أسلم؛ فهما على النكاح، وإن أبى الإسلام؛ فرق القاضي بينهما۔اھ (2/336)
وفي رد المحتار: (قوله فرق بينهما) وما لم يفرق القاضي فهي زوجته، حتى لو مات الزوج قبل أن تسلم امرأته الكافرة وجب لها المهر: أي كماله وإن لم يدخل بها لأن النكاح كان قائما ويتقرر بالموت فتح، وإنما لم يتوارثا لمانع الكفر اھ (3/189)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 47332کی تصدیق کریں
0     576
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات