مجھے ایک مسئلہ پر فتویٰ لینا ہے مسئلہ یہ ہے کہ میں شادی شدہ ہوں اور میری پانچ بیٹیاں ہیں جن میں سے چار بیٹیاں اسکول میں پڑھتی ہیں، چار ہزار روپے فیس ہے جو میں ہر مہینہ ادا کرتا ہوں Anival Charges اور کتابیں چھوڑ کر۔
میں ایک سریا کی مِل میں جاب کرتا ہوں وہاں میری تنخواہ آٹھ ہزار ملتی ہے اور میری وائف گھر میں بچوں کو قرآن پاک پڑھاتی ہیں جس سے اُن کو پانچ ہزار مل جاتے ہیں۔
میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں اور اُس کا کرایہ چار ہزار اور بجلی گیس کے بل تقریباً پچیس سو تک ادا کرتا ہوں اور فلیٹ کا منٹیننس پانچ سو روپے ادا کرتا ہوں۔
میرے گھر میں ایک عدد فریج اور میرے اپنے استعمال کی موٹر سائیکل ہے ان دونوں کی مالیت آٹھ ہزار اور سترہ ہزار روپے ہے۔
اور بچوں کی اسکول کی فیس بھی ایک صاحب مجھ کو دیتے ہیں۔
اب ان حالات میں کیا میں زکوٰۃ کا مستحق ہوں؟ جبکہ میں سید ہوں اور میری وائف صدیقی ہیں۔
نوٹ: میرے والد کام سید الفت حسین جبکہ دادا کا نام حافظ عطرت حسین تھا، ہمارے خاندان کے بڑے بوڑھے بتاتے ہیں کہ ہم سید نہیں ہیں صرف نام میں ہیں ، جبکہ اصل خاندانی طور پر ہم ’’شیخ‘‘ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے کہ سوائے والد صاحب کے باقی لوگوں کے نام میں بھی سید نہیں اور وہ سب شیخ کہلاتے ہیں۔
اگر سائل اور اس کے خاندان والوں کا شیخ ہونا معروف ہو اور خاندان کے بڑے بھی اپنے سید ہونے کی نفی کرتے ہوں اور سائل کے پاس ذاتی ملکیت میں سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور گھریلو ضرورت سے زائد اشیاء ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر بھی نہ ہوں تو وہ مستحقِ زکوٰۃ ہے۔
فی الهندیة: (فی المصارف) (منها الفقیر) وهو من له أدنی شیٔ وهو مادون النصاب أو قدر النصاب غیر نام وهو مستغرق فی الحاجة. (ج۱، ص۱۸۷)
وفیه ایضًا: ولا یدفع ألی بنی هاشم وهم آل علی وال عباس وآل جعفر وآل عقیل وآل الحارث بن عبد المطلب. (ج۱، ص۱۸۹) والله اعلم بالصواب