نکاح

سسر کا بہو کو شہوت سے چھو نے کےبعد میاں بیوی کا نکاح قائم رہیگا؟

فتوی نمبر :
47706
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سسر کا بہو کو شہوت سے چھو نے کےبعد میاں بیوی کا نکاح قائم رہیگا؟

سسر نے اپنی بہو کے ساتھ فحش باتیں کی ہوں اور شہوت میں جسم پر ہاتھ پھیرا ہو ، تو عورت کے لیے کیا حکم ہے؟ اس کا نکاح اپنے شوہر کے ساتھ قائم ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سسر نے اپنی بہو کے جسم کو بلا حائل شہوت کے ساتھ ہاتھ لگایا ہو اور وہ خود بھی اس کا اقرار کرے، یا بیٹے کو اس کا علم ہو جائے اور اس کو اس خبر کے سچے ہونے میں یقین یا گمان غالب ہو جائے تو ایسی صورت میں وہ عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائےگی، اب اس کے بعد دونوں کا میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا شر عاًنا جائز ہو گا، لہذا شوہر پر لازم ہے کہ وہ با قاعدہ الفاظ متارکہ (میں نے تمھیں چھوڑ دیا وغیرہ ) کہہ کر اس کو الگ کر دے تا کہ عدت کے بعد وہ کسی دوسری جگہ نکاح کر سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدقه، ثم رأيت عن أبي يوسف ما يفيد ذلك۔اھ (3 /33)
وفي البحر الرائق: والزنا واللمس والنظر بشهوة يوجب حرمة المصاهرة اھ (3/ 105)
وفي المحيط البرہاني: وفى المس والنظر لا يفتى بالحرمة الا اذا تبين انه فعل بشهوة (الى قوله) بخلاف المس والنظر، والدليل عليه أن محمداً رحمه الله في أي موضع ذكر التقبيل لم يقيده بشهوة، وفى اى موضع ذكر النظر والمس قيدهما بالشهوة اھ (4/ 89)
وفيه ایضاً: ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب اھ (4/ 92)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 47706کی تصدیق کریں
0     788
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات