السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
سلامِ مسنون کے بعد،
زید کی بیوی تھی اور اس کو بکر بھگا کر لے آیا اور یہ عورت زید کے نکاح میں ہے، اب بکر اور زید نے صلح کر لی سات لاکھ پر، اب زید نے طلاق دے دی اور بکر نے زید کی بیوی کے ساتھ طلاق سے پہلے جماع کیا ہے، اب اس کا نکاح کس کی عدت سے شروع ہو گا؟ حمل کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں ہے، اس کا نکاح کس طرح کیا جائے؟
بکر کیلئے زید کی بیوی کو بھگا کر لےجانا نا جائز و حرام تھا اگر اسلامی حکومت ہوتی تو بکر کو قرارِ واقعی سزا ملتی ، تاہم اب صلح ہو گئی ، اور زید نے اپنی بیوی کو طلاق دےدی تو طلاق کے بعد تین ماہواریاں مکمل ہونے پر اسکی عدت بھی مکمل ہو جائے گی، جس کے بعد بکر اس خاتون سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، جبکہ بکر نے نکاح سے قبل اس عورت سے اگر مباشرت کی ہو تو یہ شرعاً زنا اور حرام کاری شمار ہوئی ، جس پر دونوں کو بصدق دل تو بہ و استغفار لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالى: {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ} الآية [البقرة: 228]
وفي الدر المختار: (ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور اھ (3/520)
وفيه ايضاً: (وهي في) حق (حرة) ولو كتابية تحت مسلم (تحيض لطلاق) ولو رجعيا (أو فسخ بجميع أسبابه) (الى قوله) (بعد الدخول حقيقة، أو حكما) أسقطه في الشرح، وجزم بأن قوله الآتي " إن وطئت " راجع للجميع (ثلاث حيض كوامل)۔اھ (3/504)
وفى النهر الفائق: باب العدة، هي تربص يلزم المرأة عند زوال النكاح، أو شبهته و عدة الحرة للطلاق أو الفسخ ثلاثة أقراء اھ (2/474)
وفى البحر الرائق: (قوله عدة الحرة للطلاق أو الفسخ ثلاثة أقراء) اھ (4/139)