چند سوالوں کے جوابات مطلوب ہیں:
(۱) ایک پلاٹ کچا , صرف کمروں کی دیواریں ہیں چھت وغیرہ کچھ نہیں ہے , اپنے بیٹے جس کی عمر ۶ سال ہے اس کے مستقبل میں رہائش کیلئے لیا ہوا ہے، دو لاکھ تیس ہزار ۲۳۰۰۰۰ پلاٹ کی قیمت اور تقریباً چار لاکھ ۴۰۰۰۰۰ اوپر لگادیا ہے کوئی رہائش نہیں ہے کیا اس پر زکوٰۃ ہوگی ؟ اور ہوگی تو کس طرح ؟ کتنی ہوگی؟
(۲) دو عدد پلاٹ بیچنے کے ارادے سے لیے ہوئے ہیں اورنگی ٹاؤن اجتماع گاہ پر , ستر ہزار ۷۰۰۰۰ کا ایک پلاٹ لیا تھا جب کے اس وقت نقصان میں جارہا ہے کیا اس پر بھی زکوٰۃ ہوگی اور ہوگی تو کس طرح کتنی ہوگی؟ چار سال ہوگئے ہیں لئے ہوئے۔
(۳) میرے پاس کچھ افراد کام کرتے ہیں وہ منہ سے زکوٰۃ مانگتے ہیں میں نے ان کو زکوٰۃ بھی دی ہے کیا ایسے لوگوں کی زکوٰۃ ہوجائے گی اپنے پاس کام کرنے والے اور منہ سے زکوٰۃ مانگنے والے کی زکوٰۃ جائز ہوتی ہے؟ میں نے ان کو کام کے بدلے ایڈوانس دیا جو کہ کام کی رقم سے زیادہ بنتا ہے اضافی رقم ان کو زکوٰۃ میں چھوڑدی کیا زکوٰۃ ہوجائے گی؟
نوٹ: دیتے وقت زکوٰۃ کی نیت سے نہیں بلکہ کاروبار کی نیت سے دیے تھے۔
(۱) مذکور پلاٹ جب اپنی اور بچوں کی رہائش کیلئے ہے تو اس پر زکوٰۃ لازم نہیں۔
(۲) مذکور دونوں پلاٹ چونکہ انویسٹمنٹ کی غرض سے خریدے گئے ہیں اس لئے ان پلاٹوں کی قیمتِ فروخت کے اعتبار سے گزشتہ سالوں کی زکوٰہ ادا کرنا بھی لازم ہے جو ہر سال کی قیمتِ فروخت کا چالیسواں حصہ ہے۔
(۳) جس آدمی کے پاس ایک دن رات کے بقدر گزارنے کا کھانا ہو اس کیلئے زکوٰۃ مانگنا بھی حرام ہے، تاہم خود مانگنے والا بھی اگر واقعی زکوٰۃ کا مستحق ہو اور دینے والا اپنی تسلی و تحقیق کے بعد دے تو اس سے دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، جبکہ دیتے وقت اسے یہ بتاکر دینا شرعاً ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے۔
بلکہ ایڈوانس یا ہدیہ وغیرہ کے الفاظ بول کر بھی دے سکتے ہیں، ہاں دل سے ادائیگئِ زکوٰۃ کی نیت کرنا ضروری ہے، اس لئے سائل نے اپنے ملازمین کو جو رقم اُن کے حق سے زائد اور زکوٰۃ کی نیت کے بغیر دی ہے وہ زکوٰۃ میں شمار نہیں ہوسکتی، بلکہ جب اسے وہ رقم واپس کردیں تو پھر زکوٰۃ کی نیت کرکے انہیں دوبارہ لوٹاسکتا ہے۔
وفی الدر: فلا زکاة علی مکاتب (الی قولہ) وأثاث المنزل ودور السکنٰی ونحوھا.
قال ابن العابدین: (قولہ ونحوھا) کثیاب البدن الغیر المحتاج الیھا وکاالحوانیت والعقارات. اھـ (ج۲، ص۲۶۵)
وفی الدر: والاصل أن ما عد الحجرین والسوائم انما یزکی بینة التجارة. (ج۲، ص۲۷۳)
وفی الشامیة: یعتبر یوم الأداء بالاجماع وھو الأصح. اھـ (ج۲، ص۲۸۶)
وفی الدر: (ولا) یحل أن (یسأل) شیئًا من القوت (من لہ قوت یومہ) بالفعل أو بالقوة کالصحیح المکتسب ویأثم معطیہ ان علم بحالہ لإعانتہ علی المحرم. اھـ (ج۲، ص۳۵۴)
وفی الھندیة: ومن أعطی مسکینا دراھم سماھا ھبة أو قرضًا ونوی الزکاة فانھا تجزیہ وھو الأصح. (ج۱، ص۱۷۱)
وفی الدر: واعلم أن اداء الدین عن الدین والعین عن العین وعن الدین یجوز واداء الدین عن العین وعن دین سیقبض لا یجوز، وحیلة الجوازان یعطی مدیونہ الفقیر زکاتہ ثم یأخذھا عن دینہ. (ج۲، ص۲۷۱)
وقال ابن العابدینؒ: الأولٰی أداء الدین عن العین کجعلہ ما فی ذمّۃ مدیونہ زکاة لمالہ الحاضر. اھـ (ج۲، ص۲۷۱) واللہ اعلم بالصواب
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0