میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی، پھر اس نے نکاح کیا اپنے کزن سے ، اس میں میری مدد شامل تھی، لیکن میری نیت واپسی کی نہیں تھی، پھر اس( کزن) نے طلاق دیدی، بچوں کی ماں کے مطابق اس نے نکاح نہیں کیا اب تک , 5 پانچ سال ہو گئے ہیں، کیا میں اس سے نکاح کر سکتا ہوں۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً سچ اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائل کے طلاق دینے کے بعد سائل کی بیوی نے عدت کے بعد کسی سے نکاح کر کے اس سے ہمبستری بھی کی ہو، پھر اس نے طلاق دیدی ہو تو اب پانچ سال گزرنے کے بعد (یعنی عدت گزرنے کے بعد) سائل کیلئے اپنی پہلی بیوی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ عقد نکاح کر نادرست اور جائز ہے۔
كما في التنزيل العزيز: الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسريح باحسان (الى قوله) فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ( سورة البقرة الآية 230)
و في صحيح البخاري: عائشة رضي الله عنها أن رفاعة القرظي طلق امرأته فبت طلاقها فتزوجها بعده عبد الرحمن بن الزبير فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم (لى قوله) ثم قال لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته و يذوق عسيلتك ( ج 8 ص (22)
وفي الهداية :واذا كان الطلاق ثلاثاً فى الحرة او ثنتين فى الامة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها اهـ (ج 2 / ص (409)