نکاح

گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہو تو شادی کے لیے قرض لیا جا سکتا ہے ؟

فتوی نمبر :
48755
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہو تو شادی کے لیے قرض لیا جا سکتا ہے ؟

مجھے یقین ہے کہ اگر میں نے نکاح نہ کیا تو مجھ سے گناہ سرزد ہو گا، زنا سے کم درجہ کے گناہوں کے سرزد ہونے کا یقین ہے اور زنا کا یقین تو نہیں، مگر غالب گمان ہے، میری عمر سولہ سال ہے، میرے والد معاش کی تلاش میں بیرون ملک میں ہیں، اگر عرف کے موافق میری والدہ اور ہمارا خرچ بھیجنے کے بعد اتنی رقم بچ جاتی ہے جس سے میرا نکاح سادگی سے ہو جائے، اور وہ پھر بھی میرے نکاح کی جد وجہد نہ کریں تو کیا میرے کسی گناہ سے وہ گناہگار ہوں گے؟ ایک مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر کسی شخص کو نکاح نہ کرنے کی صورت میں گناہ کا ظن غالب ہو اور وہ صرف قرض لے کر مہر اور نفقہ ادا کرنے پر قدرت رکھتا ہو اور مستقبل میں قرض لوٹانے کے اسباب بھی ہوں تو اس پر قرض لے کر نکاح کرنا واجب ہو جاتا ہے تو کیا اپنے باپ سے قرض لیا جا سکتا ہے؟ اس ساری صور تحال کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے اور میری والدہ کواپنی مفید آراء سے مستفید فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے جو عمر لکھی ہے وہ شادی کیلئے موضوع عمر نہیں، یہ وقت تو سائل کی تعلیم و تربیت کا ہے، اس لئے بجائے شادی کے وہ اپنے مستقبل کی فکر کرے، تاہم اگر شہوت کا غلبہ ہو اور اس کی وجہ سے سائل کو گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو کثرت سے روزے رکھے اور شہوت کو توڑنے والی اشیاء کا استعمال کرے، شہوت کو بڑھانے والی اشیاء کا استعمال بالکل نہ کرے، ان شاءاللہ فائدہ ہو گا، جب شادی کی عمر کو پہنچ جائیں اور بیوی بچوں کے نان نفقہ وغیر ہ دینے کے اہل ہو جائیں تو اس وقت شادی کرنے میں بھی حرج نہیں، اس وقت والدین کا اس سلسلہ میں سستی و کوتاہی کرنا گناہ ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي الدر المختار: (ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه بدائع۔اھ (3/6)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 48755کی تصدیق کریں
0     470
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات