السلام علیکم!
میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں اور شادی کیلئے راضی ہوں اور اس کے گھر والے بھی راضی ہیں،لیکن میرے گھر والے برادری میں شادی کرنے پر بضد ہیں، اسلام کی رو سے میرا کیا عمل ہونا چاہیئے ؟ اور میرے پاس کیا حقوق ہیں؟ الحمد اللہ میں ایک اسلامی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں، میرا تعلق حنفی مسلک سے ہے، برائے مہربانی میری راہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ
سائل کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکور رشتہ سائل اور مذکور لڑکی کی پسند سے طے ہوا ہے ، بعد میں اپنے والدین کو راضی کرنے کی کوشش ہوئی ہے، اسی بناء پر سائل کے والدین اس رشتہ پر راضی نہیں، چنانچہ اگر واقعۃً ایسا ہی ہو تو بالغ لڑکے لڑکی کا خود سے پسند کی شادی کرنا والدین اور اولیاء کو اس میں شامل نہ کرنا بڑی جسارت اور بے شرمی پر مبنی عمل ہے، ایسا نکاح بزرگوں کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے عموماً پائیدار نہیں ہوتا بلکہ طلاق و خلع پر منتج ہو جاتا ہے، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ اس رشتہ و نکاح کیلئے اپنے والدین کو آمادہ کرنے کی کوشش کرے، اگر وہ آمادہ ہو جائیں تو بہتر، ورنہ والدین کی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح و شادی کرنے کا اہتمام کرے ، ان شاء اللہ اس میں خیرہوگی۔
کما في الدر المختار: (ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة اھ (3/58)