نکاح

طلاقِ بائن کے بعد تجدیدِ نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
49898
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

طلاقِ بائن کے بعد تجدیدِ نکاح کا حکم

شوہر کے ایک طلاق دینے پے تین ماہ کے اندر رجوع ہوگیا اور دوسری طلاق کے بعد 19 ماہ بیٹھ گئے تو اب کیا اس شوہر سے دوبارہ نکا ح ہو سکتاہے کہ نہیں ؟ اسلام کا کہتا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ نے سوال میں طلاق کے الفاظ ذکر نہیں کیے تاکہ اسکے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر شوہر نے صریح الفاظ" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “ وغیرہ کے ذریعے بیوی کو ایک طلاق دیدی ہو اور پھر دورانِ عدت رجوع بھی کر لیا تھا تو ان کا نکاح حسبِ سابق بر قرار تھا، اور آئندہ کیلئے شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل تھا، لیکن اسکے بعد اگر شوہر نے دوبارہ صریح الفاظ میں دوسری طلاق بھی دیدی ہو تو اس سے اسکی بیوی پر دوسری طلاقِ رجعی بھی واقع ہو چکی تھی، جسکے بعد شوہر کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا، لیکن اگر اس نے عدت میں رجوع نہ کیا ہو ، تو عدت گزرنے کے بعد اس کی بیوی کا شوہر سے نکاح ختم ہوچکا ہے ، اب عورت اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ نکاح کرنا لازم ہے، تاہم اس نکاح کے بعدآئندہ کے لئے شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار ہو گا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي الدر المختار: (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) (ولو عبدا أو مكرها) (الیٰ قوله) (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، وقال تحت (قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ. (248/3)
وفي الهندية : اذا كان الطلاق بائناً دون الثلاث فله ان يتزوجها في العدة وبعدانقضائها اھ(1/472)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 49898کی تصدیق کریں
0     1499
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات