محترم استاد صاحبان ! میرا نام ۔۔۔۔اور میرا تعلق ضلع ۔۔۔سےہے ،میرے والد کا انتقال آج سے 25 سال پہلے ہوچکا ہے ،اور میری والدہ کا دوسرا نکاح ہوگیا ہے، لیکن مجھے کچھ وقت قبل معلوم ہوا کہ میرے سوتیلے والد نے میری اہلیہ کے ساتھ بدکاری یعنی زنا کیا ہے تو اب کیا میری اہلیہ مجھ پر حلال ہے یا حرام ،اور میرے سوتیلے والد کو قتل کردیا گیا ہے ۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کا م نہ لیا گیا ہو ،تو سائل کے سوتیلے والد کاسائل کی بیوی سے بدکاری کرنا بے غیرتی اور بے حیائی ہونے کے ساتھ شرعاً ناجائز اور حرام تھا ،مگر اس بدکاری کی وجہ سے سائل کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا ،نکاح بدستور برقرار ہے ۔
کمافی صحیح البخاری :عن ابی سلمة انہ سمع اباھریرة رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ انہ قال "ان اللہ یغار وغیرة اللہ ان یاتی المؤمن ما حرم اللہ " اھ (7/35)۔
وفی الشامیة:(قوله: وزوجة أصله وفرعه) لقوله تعالى {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم} [النساء: 22] وقوله تعالى {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم} [النساء: 23] والحليلة الزوجة وأما حرمة الموطوءة بغير عقد فبدليل آخر وذكر الأصلاب لإسقاط حليلة الابن المتبنى اھ (3/31)۔ واللہ اعلم بالصواب