نکاح

نکاح نامہ پر دستخط کرنے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
51167
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح نامہ پر دستخط کرنے سے نکاح کا حکم

السلام علیکم!
23 جولائی ۲۰۲۲ ۔۔۔محلہ ۔۔۔ جھنگ صدر میرے نکاح کے وقت نکاح نامے کچھ نہیں لکھا ہوا تھا اور میرے والد اور بھائی نے مجھے سے کچھ بھی نہیں پوچھا اور نکاح نامے پہ سائن کروا لیے نکاح کے وقت مجھے کسی سے محبت تھی میرے نکاح کے وقت دل میں یہ ہی ارادہ تھا کہ چاہے میں کاغذ پر سائن کر ر ہی ہوں ، پر بیوی اس کی ہوں جس سے محبت کرتی ہوں اور میرا جس سے نکاح ہوا ہے وہ نامرد ہے اور سود کے معمولات بھی ہیں ،کیا میرا نکاح ہو گیا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سائلہ کے والد یا بھائی نے فقط سائلہ سے نکاح نامہ پر دستخط لئے یا سائلہ کی طرف سے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کیا تھا، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر سائلہ کی طرف سے وکیل بن کر سائلہ کے والد یا بھائی نے ایجاب و قبول کر کے سائلہ کا نکاح کرایا ہو اور اس وقت سائلہ نے نکاح نامہ پر دستخط کر کے اس نکاح پر رضا مندی ظاہر کی ہو( جیسا کہ عموما ایسا ہی ہوتا ہے )تو اس سے شرعا سائلہ کا نکاح منعقد ہو چکا ہے ، اب اگر سائلہ اور مذکور لڑکے کے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے وغیرہ کسی اور وجہ سے نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو سائلہ اپنے شوہر سے طلاق یا خلع وغیرہ کے ذریعہ علیحد گی حاصل کر سکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك (و) يقول الآخر ( تزوجت اھ (3/ 9)
و في الدر المختار: (قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. و في القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. (3/ 441)
و في الفتاوى الهندية: وأما ركنه فالإيجاب والقبول كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية اھ (1/ 267) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حشمت علی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 51167کی تصدیق کریں
0     41
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات