والدین کو گھر کا کرایہ آتا ہے، جس سے ضروریات پوری نہیں ہوتی ۔ بڑا بیٹا والدین کی مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ماشاء اللہ صدقہ اور خیرات بھی کافی کرتا ہے۔ کیا بڑا بھائی زکوۃ اور صدقہ کے پیسے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم اور شادیوں کے لیے جمع کر سکتا ہے؟
بڑا بھائی اگر صاحب نصاب ہو اور اس کے چھوٹے بہن بھائیوں کی ملکیت میں سونا، چاندی، نقدی اور ضروریات اصلیہ سے زائد کوئی چیز بقدر (نصاب ساڑ سے باون تولہ چاندی کی مالیت موجود نہ ہو) اور وہ عاقل اور سمجھدار بھی ہوں تو بڑے بھائی کے لیے باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو زکوۃ کی رقم دینا بلا شبہ جائز ہے، بلکہ دہرے اجر و ثواب کا باعث ہوگا۔ البتہ اگر چھوٹے بہن بھائیوں کو زکوۃ کی رقم با قاعدہ مالکانہ طور پر حوالے کی جائے تو ان کی شادیوں اور تعلیم وغیرہ پر رقم خرچ کرنے سے بڑے بھائی کی زکوۃ ادا نہ ہوگی۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله: وإلى من بينهما ولاد) أي بينه وبين المدفوع إليه؛ (إلی قوله) وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة. و في الظهيرية: ويبدأ في الصدقات بالأقارب، ثم الموالي ثم الجيران اھ (2/ 346)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط و في التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ اھ (2/ 344)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: بشرط أن يعقل القبض) قيد في الدفع والكسوة كليهما ح. وفسره في الفتح وغيره بالذي لا يرمي به، ولا يخدع عنه، فإن لم يكن عاقلا فقبض عنه أبوه أو وصيه أو من يعوله قريبا أو أجنبيا اھ (2/ 257) واللہ اعلم بالصواب
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1