نکاح

دوستوں کے سامنے نکاح کا جھوٹااقرارکرنا

فتوی نمبر :
51509
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

دوستوں کے سامنے نکاح کا جھوٹااقرارکرنا

اگرلڑکا لڑکی دوستوں میں ہو اور یہ بات قبول کرلیں، ہم نے اس کو شوہر اور بیوی مانا، اور بعد میں ہمبستری کرلیں، تو کیا یہ نکاح جائز ہے، اور اگراب دونوں ساتھ نہیں رہنا چاہتے، تو کیا لڑکی پر عدت ہے، اور اگروہ لڑکی گھرمیں یہ سب نہیں بتاسکتی ہے اور عدت نہیں کرسکتی تو کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ صحت نکاح کے لیے ایسے لڑکے اور لڑکی کا گواہوں کی موجود گی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کرنا ضروری ہے، جو ایک دوسرے کے کفوء اور ہم پلہ ہو، ورنہ یہ نکاح شرعادرست نہ ہوگا، اس لیے صورت مسئولہ میں اگرمذکور لڑکے اور لڑکی نے محض ایک دوسرے کو میاں بیوی مانا ہو اور باقاعدہ ایجاب وقبول نہ کیا ہو، تو محض میاں بیوی ماننے اور اقرارکرنے سے ان دونوں کا نکاح شرعا منعقد نہیں ہوا، بلکہ وہ دونوں بدستورایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں، اور اس کو نکاح سمجھ کر دونوں نے جو جسمانی تعلق قائم کیاہے، وہ بھی شرعاناجائز اور حرام فعل تھا، جس پر دنوں کو صدق دل سے توبہ واستغفاراور آئندہ کے لیے ایک دوسرے سے مکمل طورپر علیحدگی اور میل جول سے اجتناب لازم ہے،جبکہ نکاح درست نہ ہونے کی صورت میں نہ تو طلاق کی ضرورت ہے اور نہ ہی عدت کی، بلکہ لڑکی والدین کی اجازت سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

لمافی خلاصۃ الفتاوی(۴/۲):وفی الفتاوی رجل و امرأۃ أقرابالنکاح بین یدی الشھودوقالا بالفارسیۃ مازن وشوئیم لا ینعقد النکاح بینھما وھو المختار۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 51509کی تصدیق کریں
0     1067
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات