کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لفظِ معجزہ اور کرامت (MIRACLE) میں کیا فرق ہے؟ کیا آج کل یہ الفاظ کسی سے منسلک کر سکتے ہیں؟ کیا یہ شرک تو نہیں کہ اگر کوئی یہ کہے کہ میرے ساتھ معجزہ ہوا؟
الفاظ کا تو فرق واضح ہے، البتہ معنوی اعتبار سے دونوں میں فرق یہ ہے کہ وہ خارقِ عادت کام جو کسی انسان سے سرزد ہو، اگر وہ شخص مدعی نبوت ہو تو معجزہ اور اگر کسی عام صالح آدمی جسے ولی کہتے ہیں، سے صادر ہو جائے تو کرامت کہلاتا ہے، اور اس لحاظ سے معجزے کا وجود اب ناممکن ہے ،جبکہ اس طرح کہنے سے (کہ میرے ساتھ معجزہ ہوا) کوئی مشرک نہیں بنتا، بلکہ اس کی مراد عرف میں خلافِ عادت اور مشکل اَمر کا ہونا ہوتا ہے، اگرچہ اس طرح کہنے سے بھی احتراز چاہیے۔
ففی شرح فقه الأکبر: والحاصل أن الأمر الخارق للعادة هو بالنسبة إلی النبی معجزة (إلی قوله) وبالنسبة إلی الولی کرامة اھ (ص:۸۰)-
وفی لوامع الأنوار البهية: وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْأَمْرَ الْخَارِقَ لِلْعَادَةِ فَهُوَ بِالنِّسْبَةِ إِلَى النَّبِيِّ مُعْجِزَةٌ سَوَاءٌ ظَهَرَ مِنْ قِبَلِهِ أَوْ مِنْ قِبَلِ آحَادِ أُمَّتِهِ، وَهُوَ بِالنِّسْبَةِ لِلْوَلِيِّ كَرَامَةٌ الخ (2/ 396)-
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1