کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم اہلسنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ جو علماء ،طلباء اور حفاظ صاحبان ختمِ قرآن مجید کرلیں یا ختمِ کلمہ طیبہ کرلیں ان کو ازراہِ احسان و امداد روٹی، چائے اور کچھ نقدی دینا جائز اور مستحب ہے، ناسمجھ لوگ اسے حرام اور بدعت کہتے ہیں، اسے بدعت اور حرام کہنے والے غلط اور نجدی ہیں۔
مروّجہ قرآن خوانی کے موقع پر پڑھنے والوں کو کھلانا پلانا اور نقدی وغیرہ کا باضابطہ اہتمام کرنا اور ایصالِ ثواب کیلئے اسی طریقہ کو لازم سمجھنا اور جو اس کا اہتمام نہ کرے اُسے موردِ طعن ٹھہرا کر وہابی اور نجدی وغیرہ القاب سے موسوم کرنا ایسے امور ہیں جن کا شریعتِ مطہرہ سے کوئی ثبوت اور واسطہ نہیں اور ایسے باطل نظریات امورکو اہلِ سنت والجماعت کی طرف منسوب کرنا یا اُن کا عقیدہ ٹھہرانا قطعاً غلط اور بہتان ہے جو بلاشبہ ناجائز ہے اور ایسی روِش سے احتراز بھی لازم ہے البتہ محض تبرک یا بطورِ دم و وظیفہ اگر کوئی شخص ختم کروائے تو یہ اُجرت علی الرقیہ کے زمرے میں آتا ہے جو بلاشبہ جائز اور احادیث سے ثابت ہے اور ان دونوں مواقع پر اگر محض مہمان ہونے کی وجہ سے حفاظ و طلبہ کو کھانا کھلایا جائے تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے۔
وفی الدر المختار: ویکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من اہل المیت لانہ شرع فی السرور لا فی الشرور وہی بدعۃ مستقبحۃ وروی الامام احمد (الٰی قولہ) وفی البزازیۃ ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاول والثالث وبعد الاسبوع ونقل الطعام الی القبر فی المواسم واتخاذ الدعوۃ لقراءۃ القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم او لقراء ۃ سورۃ الانعام او الاخلاص۔ اھـ (ج۲، ص۲۴۰)۔
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1