ایک شخص قضائے عمری پڑھتا ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ فجر کی اذان کے بعد ایک یا دو یا جتنا وقت ہو قضاء نماز پڑھتا ہے، پھر وقتی سنت پڑھتا ہے، پھر وقتی نماز میں شریکِ جماعت ہوتا ہے ،راقم کے نزدیک تو یہ درست ہے، مگر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ فجر کی اذان کے بعد صرف سنت پڑھے، قضاء نہیں پڑھ سکتا ، کون سا مؤقف درست ہے؟ تصدیق فرما کر ممنون فرمائیں۔
طلوعِ فجر کے بعد قضاء نماز کا پڑھنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، اعتراض کرنے والوں کا مؤقف ٹھیک نہیں ہے۔
ولابأس بأن یصلی فی هٰذین الوقتین الفوائت ویسجد للتلاوة ویصلی علٰی الجنازة لأن الکراهة کانت لحق الفرض لیصیر الوقت کا لمشغول به لا بمعنیٰ فی الوقت اھ (۱/۸۶)۔