میرے گھر ملازمہ ہے، اس کی تنخواہ دینا مشکل ہے ،گھروالی کے اصرار پر کسی صاحبِ نصاب سے زکوٰۃ لے کر ملازمہ کی تنخواہ اور دوسرے اخراجات ادا کیے جا سکتے ؟ ملازمہ صاحبِ نصاب نہیں زکوٰۃ کی حقدار ہے۔
زکوۃ کی رقم مستحق افراد کو بغیر کسی معاوضہ اور بدل کے دینا ضروری ہے،لہذا براہ راست مذکور ملازمہ کو زکوۃ کی رقم تنخواہ میں دلوانے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی ،جس سے احتراز لازم ہے،تاہم اگر سائل یا اس کی بیوی میں سے کوئی مستحقِ زکوۃ ہو یعنی سائل یا اس کی بیوی کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے بقدر مالِ تجارت اور نقد رقم نہ ہو اور دونوں سید بھی نہ ہوں تو خود زکوۃ اپنے لئے لے کر پھر اس سے ملازمہ کو تنخواہ دیں، تو یہ درست ہے،اس سے مذکور شخص کی زکوۃ بھی ادا ہوجائے گی،لیکن اگر دونوں صاحب نصاب ہو ں تو بھی زکوۃ کی رقم لینا یا بطورِتنخواہ ملازمہ کو دینا درست نہیں،بلکہ ذاتی رقم سے تنخواہ دی جائے-
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0