مفتی صاحب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری کچھ رقم ایک شخص کے ذمہ اُدھار تھا، اب وہ شخص مر چکا ہے، لہٰذا اب رقم وصولی کی کوئی صورت نہیں، کیا اب یہ رقم میں زکوٰۃ کے مد میں اس شخص کو بخش سکتا ہوں؟ جو اب اس دنیا میں نہیں ہے، اور کیا اس صورت میں زکوٰۃ ادا ہو جائےگی؟ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
کسی مرحوم کو زکوۃ کی مد میں قرض معاف کرنے سے شرعاً یہ فریضہ اداء نہیں ہوگا اس لیے مذکور صورت اختیار کرنے سے احتراز چاہیے، ہاں اگر وہ اپنا قرض اسے معاف کر دے اور مرحوم کے ورثاء سے اس کی وصولی کا مطالبہ نہ کرے تو یہ بلا شبہ باعث اجر و ثواب ہے۔
ففى الفتاوى الهندية: أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى هذا في الشرع كذا في التبيين (إلی قوله) وأما شرط أدائها فنية مقارنة للأداء أو لعزل اھ (1/ 170)
و في الفتاوى الهندية: ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد وكذا القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه اھ (1/ 188) واللہ اعلم بالصواب
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0