میرے بڑے بھائی جو کہ ہمارے ساتھ رہتے ہے، اور ان کی عرصہ دس سال سے کوئی روزگار نہیں ہے ، تو کیا میں اسے زکوٰۃ کی رقم دے سکتا ہوں؟
سائل کا بھائی اگر صاحب نصاب نہ ہو یعنی اس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے بقدر مالیت کی کوئی چیز،مال تجارت یا کیش وغیرہ حاجات اصلیہ سے زائد موجود نہ ہو ، تو سائل اس کو اپنی زکوۃ کی رقم دے سکتاہے۔واللہ اعلم
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0