کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
(۱) اگر ایک خاتون شادی نہ کرے تو یہ خلافِ سنت تو نہیں ہے؟ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ حدیث میں ہے کہ جو میری سنت چھوڑے گا وہ مجھ سے نہیں ہے ، لہٰذا بیان فرمائیں کہ میں کیا کروں؟
(۲) ہماری مسجد کے امام تقلید کو نہیں مانتے ، کیا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہوں؟ کیونکہ میں مسجد جانا چاہتا ہوں میں عالم نہیں ہوں ، میں جاننا چاہتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ یہاں صرف ایک ہی جامع مسجد ہے۔
غلبۂ شہوت کے وقت ، جبکہ نکاح نہ کرنے کی صورت میں زنا میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو شادی کرنا واجب اور ضروری ہے اور اگر غلبۂ شہوت نہ ہو بلکہ حالتِ اعتدال ہو تو اس صورت میں سنتِ مؤکدہ ہے اور بغیر عذر کے سنتِ مؤکدہ کا چھوڑنے والا گناہ گار ہوتا ہے ، لہٰذا صورت مسئولہ میں مذکورہ خاتون کو اگر واقعۃً کوئی عذرِ شرعی اور مجبوری نہ ہو تو اُسے شادی کرلینی چاہئے اور اس سے وہ بہت سارے فتنوں سے بھی بچ سکتی ہے۔
(۲) مذکور امام موصوف اگر مذاہبِ اربعہ کی تقلید کو شرک اور تقلید کرنے والوں کو مشرک یا آئمہ کو برا کہتا ہو ، تو وہ فاسق ہے اور فاسق کی اقتداء مکروہِ تحریمی ہے اور اگر مذکور امام موصوف صرف تارکِ تقلید ہو اور محدثین کے مذہب پر ظاہرِ حدیث کے اتباع کو افضل سمجھتا ہو اور اس میں اتباعِ ہویٰ سے کام نہ لیتا ہو تو اس خاص صورت میں اس کی اقتداء جائز ہے۔
فی عمدۃ الرعایۃ علٰی شرح الوقایۃ : و ہو (ای النکاح) واجب عند شدۃ الاشتیاق و الشہوۃ بحیث یغلب علٰی ظنہ وقوعہ فی الزنا و حال الاعتدال سنۃ مؤکدۃ و مکروہ عند خوف الجور و حرام عند تیقنہ و مباح إن خاف العجز عن موجبہ خوفًا غیر راجح وکذا إذا أراد مجرد قضاء الشہوۃ۔ (ج۲، ص۴)۔
فی الدر المختار : و یکرہ إمامۃ عبد (إلٰی قولہ) و فاسق و أعمٰی و نحوہ الأعشٰی الخ و فی الرد : و أما الفاسق فقد عللوا کراہۃ تقدیمہ بأنہ لا یہتم لأمر دینہ و بأن فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ و قد وجب علیہم إہانتہ شرعًا (الٰی قولہ) فہو کالمبتدع تکرہ امامتہ بکل حال و فیہ ایضًا : فتحصل أن الاقتداء بالمخالف المراعی فی الفرائض أفضل من الإنفراد إذا لم یجد غیرہ و إلا فالاقتداء بالموافق أفضل۔ (ج۱، ص۵۶۱)۔