نکاح

موبائل پر کیے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
60410
| تاریخ :
2022-11-14
معاملات / احکام نکاح / نکاح

موبائل پر کیے ہوئے نکاح کا حکم

میں کسی لڑکی سے نکاح کی خواہش رکھتا ہوں اور اس سے میرا رابطہ پچھلے 2_3 سال سے موبائل پر ہے , دورانِ بات چیت میں نے اسے کئی بار نکاح کا پیغام دیا تو اس نے جواب میں صبر کرنے کو کہا تھا , مگر ایک دن میں نے اس سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کو حاضر ناظر جان کر اپنے نکاح میں لیتا ہوں , کیا تمہیں قبول ہے؟ اس نے" ہاں" کہا جواب میں , اس کے بعد بات چیت کا سلسلہ اسہی طرح چلتا رہا , میں نے ایک دن پھر کہا تمہیں میرا نکاح قبول ہے ؟ اس نے تین مرتبہ "قبول ہے" لکھ کر جواب دیا۔
تو کیا اس صورت میں نکاح ہوجائے گا ؟ قرآن و سنت کے ذریعے میری رہنمائی فرمائیں , کیونکہ اس کے ولی میرا رشتہ ٹھکرا چکے ہیں , انکار کر چکے ہیں, کیونکہ وہ لوگ ذات پرستی کو فولو کرتے ہیں وہ لڑکی آرائیں قوم سے تعلق رکھتی ہے , کیا بنا ولی اور گواہوں کے نکاح ممکن ہوسکتا ہے اگر الفاظ میں ہم اللہ کو گواہ مقرر کرچکے ہوں؟شکریہ ! آپ کے جواب کا انتظار رہے گا , مہربانی کر کے میری رہنمائی کریں , بہت پریشان ہوں , کسی کے ساتھ نا حق نہیں کرنا چاہتا , نہ ہی اپنی آخرت کی بربادی چاہتا ہوں ۔ اگر نکاح ہوگیا ہوا تو اس بات کو میں لڑکی کے علم میں ڈال دونگا۔
لہذا ہماری رہنمائی کریں اور گناہِ کبیرہ سے بچنے کا راستہ بتا دیں , کیونکہ نکاح پر دوسرا نکاح شریعت میں حرام قرار دیا گیا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ شرعاً نکاح کے درست منعقد ہونے کیلئے دو عاقل بالغ گواہوں کا مجلسِ نکاح میں موجود ہونا لازم ہے ، جو ایجاب و قبول کو سنیں، جبکہ موبائل میں فون یا میسج کے ذریعہ کیے ہوئے نکاح میں یہ شرط مفقود ہوتی ہے،لہذا سائل اور مذکور لڑکی کا سوال میں بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا ، دونوں ایک دوسرےکیلئے اجنبی اور نامحرم ہیں،لہذا نکاح سے قبل ملنا یا فون پر بات چیت کرنا شرعاً ناجائز اور گناہ ہے،جس سے اجتناب لازم ہے-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 60410کی تصدیق کریں
0     1043
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات