نکاح

مزنیہ کی بیٹی سے نکاح شرعاً ناجائز ہے یا اخلاقاً؟

فتوی نمبر :
60865
| تاریخ :
2004-02-23
معاملات / احکام نکاح / نکاح

مزنیہ کی بیٹی سے نکاح شرعاً ناجائز ہے یا اخلاقاً؟

اگر ایک شخص کے کسی عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات ہوں یا رہ چکے ہوں تو کیا مذکور شخص کا مذکورہ عورت کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو یہ اخلاقی طور پر ہے یا شرعی طور پر ناجائز اور حرام ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اپنی مزنیہ کی بیٹی سے نکاح کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الفتاوى الهندية: فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير. اھ(1/ 274)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60865کی تصدیق کریں
0     1182
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات