مفتی صاحب! جو شخص اجماع اور قیاس کو نہ مانے اس کو کیا کہیں گے؟ اس کی وضاحت قرآن وحدیث کے روشنی میں کریں۔
اجماع اگر ایسے مسئلہ کے بارے میں ہو جس کا ثبوت تواتر سے ثابت ہو تو اس کا انکار کفر ہے، البتہ اگر ایسے مسئلہ کے بارے میں ہو جس کا ثبوت تواتر سے ثابت نہ ہو یا جمیع صحابہؓ کا اس پر اجماع نہ ہو یا اجماع تو تمام صحابہ کا ہو، لیکن مسئلہ قطعی نہ ہو یعنی تواتر سے ثابت نہ ہو تو ایسے مسائل میں اجماع کا منکر کافر نہیں، مگر خرقِ اجماع کے بناء پر ضال اور فاسق ضرور ہے، لہٰذا جو لوگ بلا وجہ ،شرعی اجتہاد اور قیاس سے انکار کرتے ہیں، انہیں اپنے ناجائز رویہ سے احتراز لازم ہے۔
و فی حاشية ابن عابدين: وهذا موافق لما قدمناه عنه من أنه يكفر بإنكار ما أجمع عليه بعد العلم به، ومثله ما في نور العين عن شرح العمدة أطلق بعضهم، أن مخالف الإجماع يكفر والحق أن المسائل الإجماعية تارة يصحبها التواتر عن صاحب الشرع كوجوب الخمس، وقد لا يصحبها فالأول يكفر جاحده لمخالفته التواتر لا لمخالفته الإجماع. اهـ. (4/ 223)۔
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1